اگر بات میرے اپنے تک محدود ہوتی تو شاید میں اپنی مساعی میں کامیاب ہو بھی جاتا مگر افسوس کہ مجھے بار بار منہ کی کھانا پڑی ۔ ہوتا یوں ہے کہ جب بھی بلتستان سے کوئی فون آتا ہے تو سلام و دعا کے بعد پہلی بات موسم کے حوالے سے ہوتی ہے ۔ مثلاً اسلام آباد کا موسم کیسا ہے ؟ یہاں تو دھوپ نکلی ہوئی ہے ۔ اور پھر اگلی بات جو کہ درحقیقت اس سارے فساد کی جڑ ہے یعنی فلائٹ کے بارے میں پوچھنا یا بتانا ۔۔ قصہ مختصر یہ کہ روزانہ کی اس اکلوتی پرواز کے معاملے میں بلتستانی اس قدر حساس ہیں کہ چاہے کسی نے سفر کرنا ہے چاہے نہیں، لیکن آج کی اور آنے والے کل کی فلائٹ کے بارے میں آپ پیش گوئی کرنے کے لازما قابل ہوں۔
Wednesday, August 14, 2019
بلتستانی ماہرین موسمیات
اگر بات میرے اپنے تک محدود ہوتی تو شاید میں اپنی مساعی میں کامیاب ہو بھی جاتا مگر افسوس کہ مجھے بار بار منہ کی کھانا پڑی ۔ ہوتا یوں ہے کہ جب بھی بلتستان سے کوئی فون آتا ہے تو سلام و دعا کے بعد پہلی بات موسم کے حوالے سے ہوتی ہے ۔ مثلاً اسلام آباد کا موسم کیسا ہے ؟ یہاں تو دھوپ نکلی ہوئی ہے ۔ اور پھر اگلی بات جو کہ درحقیقت اس سارے فساد کی جڑ ہے یعنی فلائٹ کے بارے میں پوچھنا یا بتانا ۔۔ قصہ مختصر یہ کہ روزانہ کی اس اکلوتی پرواز کے معاملے میں بلتستانی اس قدر حساس ہیں کہ چاہے کسی نے سفر کرنا ہے چاہے نہیں، لیکن آج کی اور آنے والے کل کی فلائٹ کے بارے میں آپ پیش گوئی کرنے کے لازما قابل ہوں۔
Sunday, February 7, 2016
سکول + بارش = چھٹی
درحقیقت اس اہم مسئلے کی جانب بچپن میں ہی ہماری توجہ مبذول ہوگئی تھی. وہ ایسے کہ ایک دن پرائمری سکول میں بارش اور چھٹی کا اٹوٹ تعلق ظاہر ہوا . (تفصیل کے لیے ہمارا مضمون 'پہلی بارش' دیکھیے) ہماری زندگی پر اس حیرت انگیز دریافت کے اثرات ویسے ہی مرتب ہوئے جس طرح سیب گرنے والے حادثے کے نیوٹن کی زندگی پر ہوئے تھے. دیکھ لیں عالی دماغوں کے شب وروز میں کس قدر مشابہت پائی جاتی یے. نیوٹن کی طرح ہم بھی اس دن سے دیوانہ وار بارش برسانے کے طریقے کھوجنے میں جت گئے . خیر یہ تو وقت نے ثابت کر دیا کہ نیوٹن کا مسئلہ ہمارے درپیش مسئلے کے سامنے ہیچ تھا. آآں ہاں.. آپ متفق نہیں ہیں . کوئی بات نہیں لیکن دیکھیے نا نیوٹن تو جب چاہے درخت پر چڑھ کر یا نیچے سے ہی ہاتھ بڑھا کر یا پتھر مار کر سیب توڑ سکتا تھا. اور لازما اس نے ایسا کیا اور خوب سیب کھائے. اب بادل اور ہوائیں تو ہماری پہنچ سے باہر کی چیزیں تھیں. بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ قریب قریب یہ مسئلہ تو مابعد الطبیعات کا تھا. یہاں مغرب کے ازلی تعصب کا ذکر کرنا بھی لازم ہے جو سائینس کے شعبے میں ہماری مساعی کو کسی قطار میں شمار نہیں کرتا.
افسوس کہ چوتھی جماعت میں آکر اپنی کوششیں ترک کرنا پڑیں . اور اس کی وجہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ چوتھی جماعت میں پہنچنے کا مطلب سکول کے دو عدد کمروں میں سے ایک کا حقدار ہونا تھا. لہذا مزید اس کار بیکار میں سر کھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا.
اس زمانے میں موسم کے بارے میں جاننے کے دو ہی طریقے تھے . ریڈیو کی مقامی خبریں یا ہوا گھر (محکمہ موسمیات) کے چھوڑے ہوئے رنگین غبارے . ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا کہ مذکورہ ادارے ہماری خواہش کا پاس رکھتے ہوئے بارش کی پیشگوئی کرے . آپ کہ سکتے ہیں کہ ہماری تحقیق کو مہمیز کرنے میں ان دو اداروں کی نالائقی نے بھی برابر حصہ ڈالا .
چونکہ یہ مسئلہ قدیم سے انسانوں خصوصا طلبہ کو درپیش تھا لہذا چند بقراطیوں نے فوری بارش برسانے کے چند نسخے پہلے سے ہی گڑ رکھےتھے. ان میں سے چند تو قبول عام کے درجے پر بھی فائز تھے. ہم نے بھی ایک ایک کرکے چند نسخے آزمالیے. ایک کے مطابق کچھ لایعنی جملے چالیس صفحات پر لکھ کر آب رواں میں بہادینا تھا. ظاہر ہے یہ ساری ریاضت پڑھنے لکھنے سے جان چھڑانے کے لیے ہورہی تھی. یوں یہ نسخہ کچھ دل کو نہ بھایا. ایک نسخہء کیمیا جو کہ شاید ہماری طبیعت کے بھی موافق تھا اور جسے اکثر کارگر بھی پایا ، مینڈک مارنا تھا. یہاں اکثر سے مراد پورے سکولی دور میں ایک آدھ بار ہی ہے . بے شمار معصوم ڈڈوں کے قتل کا گناہ بر گردن او ہے جس نے یہ نسخہ ہمیں سجھایا تھا. یہاں علم حیاتیات کے طلبہ لازما ہمارے احسان مند ہیں اور اس کی وجہ وہ اہم دریافت ہے جو ہم نے چلتے چلتے کی تھی کہ کیوں ایک مینڈکی بے شمار انڈے دینے کے باوجود اکثر بے اولاد مرتی ہے ؟ . وغیرہ وغیرہ
بادلوں کے اس سیر حاصل مطالعے کے دوران آخری قابل ذکر تجربہ جس پر ہم کام کررہے تھے ، یہ تھا کہ کسی طرح ایک مصنوعی بادل بنایا جائے جو ہماری ہدایات پر عمل کرتے ہوئے قدرتی بادلوں کو گھیر گھار کر گمراہ کرے اور پھر سب ہمارے اشاروں پر ناچیں. یہ مفروضہ یقینا کسی فلم سے آیا تھا.
اسی قبیل کے سائنسی تجربات میں تین ساڑھے تین سال کا عرصہ جیسے پلک جھپکتے گزر گیا. اگر کچھ عرصہ مزید اسی کشمکش میں گزارتے تو لازما آج حضرت انسان بادلوں کو بھی اپنا مطیع و تابع فرمان بناچکا ہوتا. صد شکر کہ ایسا نہیں ہوا ..
ماہی خوری
یقینا سب کا جواب ہاں میں ہوگا ...
اب اس سوال کا جواب دیں
کبھی آپ نے زندہ مچھلی کھائی ہے ؟
کیا ؟ زندہ مچھلی ؟
اچھا چلیں مچھلی کا زندہ بچہ ؟
نہیں نہیں ....
مجھے پتہ تھا حیرت اور کراہت سے یہی کہیں گے ..
چلتے چلتے اب ذرا زندہ مچھلی کے فوائد سن لیں . پھر ہوسکتا ہے کہ آپ اس جانب کچھ توجہ فرمائیں.
فائدہ نمبر 1. یہ آپ کا قیمتی وقت بچاتی ہے . جھٹ سے پکڑیں پٹ سے کھائیں . صاف کرنے اور پکانے کی جھنجھٹ سے نجات
نمبر 2. مچھلی پیٹ کے کیڑوں کو کھاتی ہے. اگر پیٹ میں بھی زندہ رہے تو ..
نمبر 3. زندہ مچھلی کھانے سے دولت مل سکتی ہے.. وہ کیسے ؟ یہ راز کھانے کے بعد فاش ہوگا
نمبر 4. مچھلی کا زندہ بچہ نگلنے سے تیراکی آجاتی ہے. احتیاطا یہ دیکھ لیں کہ بچہ شارک کا نہ ہو.
فائدہ نمبر 5. زندہ مچھلی کھانے کے بعد آپ کوئی غلطی نہیں کریں گے. کم از کم ایسی غلطی دوبارہ نہیں کریں گے..
یہ چیدہ چیدہ فائدے ہیں جنہیں گنوا کر بچپن میں ہمارے دوست ہمیں زندہ مچھلی کھانے پر مائل کرتے تھے . چند پرکشش فائدے ان کے علاوہ بھی ہیں جنہیں بعض وجوہ کے پیش نظر نہیں لکھ رہے . غالب امکان یہی ہے کہ ایسے دوست آج کل بھی بکثرت پائے جاتے ہیں .
آپ کے ذہن میں یقینا ابھی تک یہ سوال کلبلا رہا ہے کہ ہم نے کھائی یا نہیں .. یے نا ؟
تو اس کا جواب تھوڑا پیچیدہ ہے . بس اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہم نے بہت جلد تیراکی سیکھ لی تھی . لیکن اس شتابی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان دنوں ہمارا بیشتر وقت ہرگسا نالے* میں پانی سے کھیلتے گزرتا تھا.
ویسے ہمارے دوست کچھ اتنے غلط بھی نہیں تھے. بہت بعد میں ہم پر یہ حقیقت کھلی کہ مشرق بعید والے زندہ مچھلی بڑی رغبت سے کھاتے ہیں. وہاں اچھے باورچی کی پہچان یہ ہے کہ کھانا آپ کے سامنے ایسے پروئے کہ مچھلی نہ صرف زندہ ہو بلکہ باقاعدہ تڑپ رہی ہو.
قصہ سکول جانے کا
سکول نامی جگہ سے ہماری پرانی شناسائی تھی. وہ ایسے کہ موصوف ہمارے گاوں میں نہیں بلکہ اس میں ہمارا گاوں واقع تھا. چونکہ حیرت انگیز طور پر پاکستان میں دنیا کی بڑی اور انوکھی چیزیں بکثرت پائی جاتی ہیں تو یہاں یہ دعوی کر نے میں تامل کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا سکول تھا. اس کے علاوہ بھی چند خصوصیات ہیں (ذکر آگے آئے گا) جن کی بنا پر اس سکول کا مقام منفرد و ممتاز تھا.
گھر میں ایک عرصے سے سکول میں ہمارے داخلے کاچرچا تھا اور تیاریاں زورشور سے جاری تھیں پر اچھا زمانہ تھا سونے سے پہلے ساری فکریں بھلا دیتے تھے اور ہر صبح ایک نئی صبح ہوتی تھی. لیکن ایک دن آنکھ کھلی تو دیکھا کہ والدہ سرھانے بیٹھیں کچھ پڑھ کر ہم پر پھونک رہی ہیں. ذہن میں پہلا خیال یہی آیا تھا کہ ہم پھر سے بیمار ہوگئے ہیں. والدہ ہمیں پریشان دیکھ کر فورا معاملے کی تہ تک پہنچ گئیں اور مسکراتے ہوئے بڑے پیار سے یہ مژدہ سنایا کہ آج سکول جانا ہے جلدی اٹھ کر منہ ہاتھ دھولو. انہیں سرھانے پاکر ڈر کے مارے جس تیزی سے نیند غائب ہوئی تھی ، یہ سنتے ہی اس سے دس گنا تیزی سے دوبارہ غالب آگئی. چاروناچار اٹھنا پڑا. ناشتے کے بعد والد صاحب کی ہم رکابی میں ایک بھاری بھر کم بستہ کندھے پر لٹکائے ، ایک ہاتھ میں تختی اور دوسرے میں تھرماس پکڑے سکول کے لیے روانہ ہوئے. اس طرح ہم باقاعدہ سکول میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ کم و بیش دس سال چلا.
ہمارا گھر گاوں کے تقریبا سرے پر تھا اور سکول کی مرکزی عمارت گھر سے قدرے دور گاوں کے درمیان میں واقع تھی. البتہ چند آوارہ مزاج کلاسیں، خانہ بدوشوں کی مانند گھنے سائے، پھل دار درخت یا کسی اور فائدے کے حصول کے لیے اکثر و بیشتر پورے گاوں بلکہ مضافات تک میں بھٹکتی رہتیں . سکول کے اس طور پھیلنے اور سکڑنے کے پس پردہ کچھ اور عوامل بھی کارفرما تھے. مثلا سکولی دور کے دوسرے سال ہمارے ایک نوجوان اور کنوارے استاد کے عشق نے ہمیں چند مہینے ایک قبرستان میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور کیا. اس قصے کی تفصیل کسی اور مناسب وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں . یہاں سکول کی کثیرالجہتی کا اندازہ بھی آپ کو بخوبی ہورہا ہوگا. ابتدائی جماعت ہی سے اس نوع کی تربیت کے ذریعے طلبہ کو عملی زندگی کے لیے تیار کیا جاتا تھا. بعض اوقات استاد محترم نے گھر کے اہم امور بھی نمٹانے ہوتے تھے ، انہیں ہر ممکن سہولت بہم پہنچانے کے لیے کلاس ان کے گھر کے نواحات میں چلی جاتی تھی. سکول سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک دل فریب نخلستان واقع تھا. میٹھے پانی کا ایک عدد چشمہ اور اس سے متصل ایک بڑا تالاب اس سبزہ زار کی خوب صورتی کو چار چاند لگاتے تھے. گرمیوں میں یہاں بیٹھ کر پڑھنا اور پڑھانا ہر طالب و استاد کی دلی تمنا ہوتی تھی. افسوس نخلستان کے مالک کو اس خواہش سے کچھ سروکار نہ تھا. اس لیے وہ اکثر اس میں پانی چھوڑ دیتا تھا تاکہ اس کے جانور سہولت سےچر سکیں.
سکول کی وردی سستے کھدر نما ملیشیا رنگ کے کپڑے کی قمیض شلوار پر مبنی تھی. والدہ کو قلق تھا کہ گھر میں سلائی مشین کی عدم موجودگی خواہ مخواہ فضول خرچی کا سبب بن رہی ہے. حالانکہ جس خیاط سے والد صاحب کپڑے سلواتے تھے ، پورے شہر میں ان سے کم سلائی لینے والا کوئی دوسرا نہ تھا . نیز جب انہیں خبر ہوئی کہ راقم سکول میں داخل ہونے جا رہا ہے تو جذبہ خیر سگالی کے تحت سلائی میں مزید کمی کردی تھی. موصوف انسان تو بےشک اچھے تھے لیکن ان کے سلے ہوئے کپڑے اس لیے برے تھے کہ ان کے جوڑ بغیر کسی تخصیص کے کبھی بھی کھل جاتے تھے. دراصل حضرت کو اپنی کاریگری اور تجربے پر اس قدر اعتماد تھا کہ ناپ لینے کی زحمت نہیں کرتے تھے. بس نظر بھر کر دیکھ لیا اور پھر حافظے کے بل بوتے پر سوٹ تیار. قمیض کی حد تک تو یہ کجی قابل برداشت تھی پر شلوار کا معاملہ چونکہ بڑا نازک ہوتا ہے لہذا کئی بار سخت خفت اٹھانا پڑی. والد صاحب پھر بھی تبدیلئ خیاط پر راضی نہ تھے . الٹا قصوروار ہمیں ہی ٹھہراتے تھے کہ سکول میں داخل ہونے کے باوجود اٹھنے بیٹھنے کی تمیز نہیں آئی. آخرکار دوسرے سال جب آخری حربہ آزماتے ہوئے سکول جانے سے صاف انکار کردیا تب اس مشکل سے جان چھوٹی.
وردی تو والدہ نہ سی پائیں پر میرا بستہ انہوں نے بڑی محنت اور محبت سے سیا. ان کی نفاست بستے کے ڈیزائن اور پائیداری سے برابر جھلکتی تھی. پہلے میری بھی شدید خواہش تھی کہ بازار سے ایک نیا اور رنگین بستہ لیا جائے لیکن انہوں نے انتہائی خوب صورتی سے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی. نتیجتا طویل مذاکرات کے بعد میں اس شرط پر راضی ہوا کہ بستہ تیار ہونے کے بعد اگر پسند نہ کروں تو بازار سے ہی خریدا جائے گا. اس کے بعد انہوں نے کام شروع کردیا اور اپنے ہاتھوں سے ایسی سیدھی، صاف ستھری اور خوبصورت دوہری سلائی کی کہ مشین کیا کرتی. حتی کہ کئی لوگوں کو یہ ماننے میں تامل تھا کہ یہ ہاتھ کا سلا ہوا ہے. پہلے میرا پورا ارادہ یہی تھا کہ مکمل ہونے پر ناپسند کرتے ہوئے رد کردوں گا پر ان کی محبت ، محنت اور بستے کی خوب صورتی دیکھی تو قبول کر لیا. یہ بستہ مڈل سکول تک یعنی چھے سال چلا. اس کے بعد بھی اسے کچھ نہیں ہوا تھا لیکن اب کتابیں زیادہ ہوگئی تھیں. ایک عرصے تک وہ بستہ کچن میں مختلف چیزیں رکھنے کے کام آتا رہا.
اس زمانے کا رواج تھا کہ سکول میں داخلے کے وقت طالب علم کی طرف سے تمام اساتذہ کو پارٹی دی جاتی تھی. اب آج کا زمانہ تو ہے نہیں کہ بیکری سے تیار چیزیں خریدلیں لہذا والدہ نے سارے لوازمات خود تیار کیے. ایک چائے کا تھرماس اور تھیلا والد نے پکڑا، اور ایک تھرماس میں نے. چند چیزیں میرے بستے میں سمائیں. یہ مال و اسباب اٹھا کر سکول کے لیے روانہ ہوئے. والدہ دروازے تک چھوڑنے آئیں. راستے میں جو بھی ملا اس نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات ظاہر کیں. سکول پہنچا تو اسمبلی جاری تھی. لڑکے با آواز بلند لب پہ آتی پڑھ رہے تھے. ایک مدت بعد اس دعا کا مطلب واضح ہوا اور اس کے بھی کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ یہ علامہ اقبال کی نظم ہے. ہیڈماسٹر ، مشہور استاد، ماہر تعلیم محمد علی صاحب تھے. جو طلبہ میں اپنی ایک عرفیت سے جانے جاتے تھے. انتہائی علم دوست اور اصولوں کے پابند تھے. یقینا میرے جیسے چند کام چوروں نے انہیں یہ عرفیت دی تھی . والد کی وجہ سے انہوں نے ہمارا استقبال بڑے تپاک سے کیا. رجسٹر میں نام کے اندراج کے بعد والد نے باقاعدہ مجھے ان کے حوالے کردیا، جس طرح تھانے والے عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کو جیلر کے حوالے کرتے ہیں. سکول کے اساتذہ کو خبر ہوچکی تھی کہ چائے پانی کا بندوبست ہے لہذا سب حاضر تھے. ہمیں ایک استاد نے کلاس کی راہ یوں دکھائی. وہ سامنے جو سفید شہتوت کا درخت دکھ رہا ہے، اس کے نیچے تمہاری کلاس ہے. ہم نے بطرف شہتوت چلنا شروع کیا . راستے میں جتنی کلاسیں ملیں، ہر ایک میں سے ایک آدھ قرابت دار یا دوست برآمد ہوا اور بغل گیر ہوکر خوشی کا اظہار کیا . اپنی کلاس میں پہنچے تو یہ دیکھ کر ازحد خوشی ہوئی کہ کئی لنگوٹیے وہاں پہلے سے موجود تھے. پارٹی کے بعد والد صاحب، استاد کے ہمراہ کلاس میں آئے . مجھے خوش دیکھ کر مطمئن ہوگئے اور یہ کہ کر کہ اب چھٹی سے پہلے گھر مت جانا، چلے گئے.
Friday, June 19, 2015
پہلی بارش
پرائمری سکول کی عمارت چار کمروں پر مشتمل تھی . ایک ہیڈماسٹر صاحب کا دفتر تھا اور دوسرا اساتذہ کی بیٹھک . باقی کے دو کمروں میں بڑوں کی کلاسیں ہوتی تھیں. ویسے تو یہ بڑے چوتھی اور پانچویں جماعت کے لڑکے تھے پر جب دیکھو اساتذہ اور والدین سے زیادہ ہمارے خیرخواہ بنے پھرتے تھے. حیرت انگیز طور پر یہ صاحبان کمرے جیسی نعمت پاکر کچھ زیادہ خوش نہ تھے . اس ناشکری کا راز ہم پر اس دن کھلا جب سکول میں داخل ہونے کے بعد پہلی بار بارش ہوئی . اس روز اسمبلی کے بعد ہم اپنی کلاس یعنی سفید بے دانہ شہتوت کے نیچے پہنچ کر گیلی مٹی کے اوپر خشک ریت ڈال رہے تھے تاکہ نمی کے مضر اثرات سے خود کو محفوظ رکھ سکیں. تختہ سیاہ اور استاد کی کرسی لانے کی ذمہ داری اس دن جن لڑکوں کی تھی ، وہ ابھی راستے میں ہی تھے . یکایک آسمان پر کالی گھٹائیں چھا گئیں اور چشم زدن میں پانی چھم چھم برسنے لگا . استاد کی غیر موجودگی اور دستور مکتب سے ناواقفیت آڑے آئی اور بھیگنے لگے . ایسے میں بڑی فکر یہ لاحق ہوئی کہ جس تختی پر چکنی مٹی کی روشنائی سے گھر کا سارا کام لکھا ہے اسے مٹنے سے کیسے بچائیں . اتنے میں ہم نے دیکھا کہ دوسری کلاس جو ذرا دور خوبانی کے درخت کے نیچے ہورہی تھی ، کے لڑکوں نے زور سے چھٹی کا نعرہ مارا اور تتر بتر ہوگئے . ہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں کرپائے تھے کہ اسی کلاس کے استاد کی نظر بیٹھک کی طرف دوڑتے ہوئے ہم پر پڑی . وہ رک گئے اور چلا کر بولے 'تمہیں بارش میں بھیگنے کا کوئی خاص شوق ہے . بھاگو ' یہ سننے کی دیر تھی کہ ہم نے اس تختی کو جس کی اب تک جی جان سے حفاظت کررہے تھے ، سر پر تان لیا اور بستہ اٹھا کر دوڑ پڑے. جب ہم سکول کی عمارت کے پاس سے گزرے تب بڑوں کے کمروں پر نظر پڑی. وہاں بدستور پڑھائی جاری تھی اور سب کن اکھیوں سے گھر جانے والے خوش نصیبوں کو حسرت سے تک رہے تھے .
Wednesday, June 27, 2012
الفاظ و معنی ۔۔۔۔۔۔
الفاظ کا یہ سفر جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ اس عمل کو کوئی روک نہیں سکتا لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس منتقلی کے دوران الفاظ کے معنی کیوں اور کیسے بدل جاتے ہیں؟ آیا یہ کام کسی کے کہنے سے ہوتا ہے یا کسی کی فرمائش پر یا خودبخود انجام پاتا ہے؟ میرا خیال ہے ان سوالات کا تسلی بخش جواب شاید ہی کوئی دے سکے گا۔
Friday, May 25, 2012
بچگانہ حرکتیں ۔۔۔۔۔
بھانجھے کے اس نئے فیصلے کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ایک دن قبل وہ اپنے والد کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کو لینے پبلک سکول گیا تھا۔ وہاں اس نے دیوہیکل بس دیکھی اور اس کے سحر میں مبتلا ہوگیا ۔۔ شاید اس نے سوچا ہوگا کہ دنیا کا سب سے ضروری ، احسن اور دل چسپ کام بس چلانا ہے ۔
۔۔۔ بیچارے ۔۔۔
Sunday, May 20, 2012
راجا حسین خان مقپون
صحافی ، سماجی کارکن، سیاست دان راجا حسین خان مقپون پچھلے دنوں ایک حادثے میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے ۔ان کی ناگہانی موت سے بلاشبہ گلگت بلتستان کی صحافت اور سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جو کہ اب شاید ہی پر ہو۔
کچھ دنوں سے یہ سوچ مجھے بار بار ستارہی ہے کہ ایک ہی سکول ، کالج میں پڑھنے اور ایک ہی چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھنے کے باوجود میری ان سے فقط ایک ہی ملاقات کیوں ہوئی ۔ بے شک گزشتہ کچھ سالوں سے ہم اسلام آباد جیسے نسبتاً بڑے شہر میں رہ رہے تھے لیکن یہاں بھی کسی تقریب ، محفل میں یا سر راہ ہم کبھی نہیں ملے۔ حالانکہ دوست احباب اور جان پہچان والوں کے علاوہ بعض ایسے لوگوں سے بھی آمنا سامنا رہتا ہے جو نہ رہے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس بلاگ میں راجا مرحوم سے ہونے والی اس اکلوتی ملاقات کا احوال اور چند تاثرات قلمبند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے ۔ آمین
ایک دن ایک دوست کے ساتھ اس کے کسی کام سے ڈگری کالج جانا ہوا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھی کالج میں داخل ہونے سے پہلے کا قصہ ہے ۔ میرے دوست کو کالج ہوسٹل میں مقیم کسی طالب علم سے ملنا تھا۔ اس روز پہلی بار پتہ چلا کہ ہوسٹل بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ورنہ ابھی تک صرف ہوٹل سے ہی واقف تھا ، خوشگوار حیرت یہ جان کر ہوئی تھی کہ جس کالج میں بچپن سے آنا جانا ہے وہاں ہوسٹل جیسی اہم ترین شے بھی موجود ہے اور اس موجودگی سے ہم یکسر بےخبر رہے۔ ہاسٹل دیکھ کر یہ خوشی یا حیرت شاید اس لیے ہوئی تھی کہ ہماری آنے والی زندگی میں اس نے اہم کردار ادا کرنا تھا۔
جب ہم اپنے میزبان کے کمرے میں پہنچے تب وہاں چار لڑکے سر جوَڑے لوڈو کھیل رہے تھے۔ ہمارے پہنچنے پر ہمارا میزبان اس مقابلے سے دستبردار ہوا اور ہم سے گپ شپ شروع کردی۔ گفتگو ابھی شروع ہوِئی تھی کہ ایک دبلا پتلا ، پھرتیلا لڑکا گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔ پتہ یہ چلا کہ یہ سب میرے دوست کے کلاس فیلوز ہیں۔ جو لڑکا گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تھا اس کے بابت معلوم ہوا کہ کسی طلبہ تنظیم کا بھی سرگرم کارکن ہے اور طلبہ کے مسائل و مشکلات سے لے کر علاقائی و ملکی معاملات کا گہرا ادراک رکھتا ہے ۔ مزے کی بات یہ کہ دوران ملاقات اس لڑکے کا پورا نام نہیں جان سکا کیونکہ سب اسے راجا کہ کر بلاتے رہے۔ خیر یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی ، بلتستان میں بھی خطاب ، لقب و دیگر ناموں سے اگلے کو مخاطب کرنے کی روایت موجود ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ راجا حسین خان مقپون تھے اور یہ میری ان سے پہلی اور آخری ملا قات تھی۔ تقریباً تین سال بعد جب میں باقاعدہ کالج کا طالبعلم بنا تب وہ کالج سے فارغ ہو کر جاچکے تھے ۔ اس ضمن میں میری معلومات ناقص ہیں کہ انہوں نے کالج میں یا کالج کے بعد تعلیمی سفر کی کتنی منزلیں طے کیں البتہ یہ سب جانتے ہیں کہ عملی زندگی میں انہوں نے اعلی مدارج سر کیے۔
راجا حسین خان مقپون کو شاید اپنی کوتاہ عمری کی خبر تھی اسی لیے وہ اس مختصر زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر مسلسل محو عمل رہے۔ جب انہوں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو صحافت کو بطور پیشہ اپنایا اور نام کمایا لیکن ان کی ساکھ اس سے قبل زمانہ طالبعلمی میں ہی ایک نوجوان سیاسی کارکن کی حیثیت سے قائم ہو چکی تھی ۔ اردو صحافت خاص کر گلگت بلتستان کی اردو صحافت کے لیے ان کی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے ۔ مختصراً اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ راجا حسین خان مقپون کی ذات اب ایک ادارے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔
جیسے کہ میں پہلے ہی عرض کر چکا کہ میری ان سے صرف ایک بار بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی۔ البتہ ان کے اخبارات اور مشترکہ دوستوں کی باتوں میں ان کی موجودگی نے ہمارے درمیان ایک تعلق ہمیشہ قائم رکھا ۔ حیرت انگیز طور پر آج تک کسی دوست سے ان کے بارے میں کوئی منفی جملہ سننے کو نہیں ملا ۔ سب نے ان کی عاجزی ، منکسر المزاجی ، دریادلی ، بزلہ سنجی اور دوست نواز طبیعت کا ہی ذکر کیا۔ اس زمانے میں جب ہر شخص منہ پر ہی تعریف کرنے اور سننے کا عادی ہوگیا ہے ، کسی کے پیٹھ پیچھے ایسی آرا سننا ایک معجزے سے کم نہیں لگتا۔
ان کی شخصیت کا دوسرا رخ ان کے صحافتی کیریئر پر نظر ڈالنے سے سامنے آتا ہے۔ اخبارات کی خبریں ، پیشکش، معیاراوردیگر چیزیں ہمیں پس پردہ موجود افراد کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہیں۔ بطور صحافی راجا حسین خان حق و صداقت کے علم بردار رہے ۔ ہمیشہ امن و آشتی کا پرچارکرتے رہے ۔ بیباکی ، ملک و ملت کےساتھ پیوستگی اوروفاداری جیسی خوبیاں بھی انکے قلم کے ذریعے نمایاں ہوتی رہیں ۔ یہ ایسی خوبیاں ہیں کہ جو ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہیں اور راجا حسین خان مقپون نے ان کی پاسداری کے لیے اپنے اخبارات کی بندش ، کردار کشی ، مالی مشکلات یہاں تک کہ قید و بند جیسی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ مگر ان کے پایہ استقلال میں لغزش نظر نہیں آئی۔
نوٹ ؛ راجا حسین خان مقپون کی تصویر ان کے بھائی راجا شاہ سلطان مقپون کے فیس بک البم سے لی گئ ہے۔
Friday, May 11, 2012
منٹو کے پرستار
آج سے ٹھیک سو سال پہلے مئی ۱۱ انیس سو بارہ کو سعادت حسن پیدا ہوا۔ پتہ نہیں کیوں مگر اس نام کے ساتھ جب تک منٹو نہ لکھیں تب تک سعادت حسن مکمل نہیں ہوتا، ایک بے نام سی تشنگی رہ جاتی ہے۔ جیسے سر کے بغیر ایک خوبصورت جسم تراشا گیا ہو۔ حتی کہ شیکسپیر کے گلاب والے مشہور زمانہ قول کی بھی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن منٹو کا اضافہ کرتے ہی تصویر جیسے تمام تر جزئیات کے ساتھ مکمل ہوجاتی ہے ۔ مجسمے کو جیسے سر مل جاتا ہے ۔ لہذا ابتدائی جملہ ترمیم کے بعد دوبارہ لکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔
منٹوغالب کی طرح لگی لپٹی رکھے بغیر کھری بات کرنے کا عادی تھا۔ انسان کو اچھائیوں اور برائیوں سمیت دیکھتا تھا اور افسوس غالب کے برعکس دکھاتا بھی تھا۔ اب اول الذکر عادت کی موجودگی تو خیر تھی پر موخرالذکر کی وجہ سے منٹو دوستوں میں بھی کانٹے کی طرح کھٹکنے لگا تھا۔ خود کو آئینے سے تشبیہ دیتا تھا کہ چہرہ جیسا ہوگا اس میں ویسا ہی دکھے گا۔ آنجہانیوں سے تو چلیں کوئی بھی بدتمیزی کرلیتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جواب یا صفائی دینے کے لیے واپس نہیں آئے گے۔ پر زندوں سے یہ دل لگی آبیل مجھے مار کہنے والی بات ہے ۔اگر آج منٹو زندہ ہوتا تو فحاشی و عریانی کے علاوہ یقیناً ہتک عزت کے بھی بے شمار مقدے بھگت رہا ہوتا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ آج کل ہر طرف منٹو کے پرستاروں کی بہتات نظر آتی ہے ۔ ادیب ، اردو افسانے کاعام قاری ، صحافی ، سیاست دان ، سماجی کارکن اور خصوصیت کے ساتھ نقاد بھی منٹو کی اس حرکت کو خوبی بنا کر پیش کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ جہاں موقع ملے منٹو کی حمایت میں خوب بڑھ چڑھ کر گفتگو فرمانے لگتے ہیں ۔ اس کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں ۔
۔۱۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ منٹو کا سورج چڑھ رہا ہے تو اس کی پوجا بھی ضروری خیال کرتے ہیں ۔
۔۲۔ انہیں یہ بات معلوم ہے اورمکمل اطمینان بھی حاصل ہے کہ اب منٹو میانی صاحب سے اٹھ کران کے بخیے ادھیڑنے نہیں آسکتا۔
ورنہ آج وہ نازک مزاج پرستار جو خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور اپنی تعریف نہ کرنے والوں اور اپنی ہاں میں ہاں نہ ملانے والوں سے بات کرنا تو درکنار ان کا وجود بھی اپنے قرب و جوار میں برداشت نہیں کرتے ، منٹو کی اس خوفناک خوبی کی کیسے تعریف کرسکتے ۔۔
Sunday, May 6, 2012
تم پوچھتے ہو
میں کون ہوں یا میں کہاں ہوں
سمندر میں خود کو تلاش کرے
Wednesday, May 2, 2012
شور
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ ء خون نہ نکلا
لو جی شکر الحمداللہ اس بے مقصدی تمہید کا فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں وہ موضوع یاد آگیا جس پر ہم نے آج قلم اٹھانا تھا ۔۔ اوہ ہو قلم تو اب فقط کہنے کو اٹھاتے ہیں یعنی لکھنا تھا۔ آپ دیکھ رہے ہیں یہاں ایک نیا موضوع سامنے آگیا ہے لیکن اس کو فی الحال کسی اورمناسب وقت کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور آج اسی موضوع تک خود کو محدود رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں ، جسے ابھی تک بیان بھی نہیں کر سکے ہیں ۔۔ بات سے بات نکلنے والی کہاوت تو آپ نے سنی ہوگی ۔ اگر نہیں سنی ہے تو سن لیں کہ اگر آپ کے پاس کبھی کسی موضوع پر بولنے کو کچھ نہ ہو تو آپ بس کہیں سے بات شروع کر دیں۔ بات سے بات نکلے گی اور سلسلہ آگے بڑھے گا ۔۔ یہ ترکیب بےحد آزمودہ اور کارگر ہے۔۔ نفع و نقصان کے ذمہ دار البتہ آُپ خود ہوں گے ۔۔
کچھ عرصے قبل ہمارا تعارف ایک صاحب سے کچھ اس طرح کرایا گیا کہ ، ان سے ملیے یہ ہیں جناب فلاں صاحب اور آپ بلاگر ہیں ۔۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے بلاگنگ کے بارے میں سن رکھا تھا ، اس لیے بڑے تپاک سے ملے اور ان کے بلاگ کے ضمن میں کافی اشتیاق ظاہر کیا۔۔۔ ورنہ خدانخواستہ اگر ہم نے ان سے اس قسم کے سوال پوچھے ہوتے کہ جناب کا دفتر کہاں ہے یا یہ کمپنی مقامی ہے یا بین الاقوامی یا جناب کی تنخواہ کتنی ہے ۔۔ وغیرہ وغیرہ ، تو نہ صرف خود کو بلکہ اس دوست کو بھی شرمندہ کرتے جس نے ہمارا تعارف کراتے ہوئے بھی کافی فیاضی دکھائی تھی ۔۔
لگ بھگ پندرہ سال پیشتر جب ہم کالج میں داخل ہوئے تو سب سے پہلی حیرت انگیز خوشی جو ہمیں ملی وہ یہ تھی کہ کلاس میں جانے نہ جانے کا فیصلہ ہم خود کر سکتے تھے ۔ اب آپ سے کیا چھپانا چند دن تو ہمیں یقین کرنے میں لگے تھے ۔ مطلب کلاسوں میں بدستور جاتے رہے ۔۔ حیرت کا دوسرا جھٹکا اس وقت لگا جب ہم نے وہاں ایک ایسی مخلوق دیکھی جسے اس نئی اور آزاد دنیا کے درجہ اول کے شہری سمجھ لیں ، یعنی مختلف سیاسی تنظیموں کے اراکین۔ ان کی تو شان ہی نرالی تھی ۔۔ کالج میں ایسے آتے جاتے تھے جیسے کالج پر احسان کر رہے ہوں۔ طلبہ خاص کر نئے آنے والے ان سے راستہ چراتے تھے۔ ہم البتہ اس معاملے میں خوش قسمت اس طرح ٹھہرے کہ ہم ان میں سے اکثریت کے اصلی چہروں سے واقف تھے ۔ تقریباً ہر طلبہ تنظیم میں ہمارے دوست موجود تھے ۔ یوں ایک طرف تو بڑی سہولت حاصل ہوگئی جبکہ دوسری طرف اب ہر طرف سے ہمیں اپنی اپنی پارٹی میں شمولیت کے لیے دعوتیں ملنے لگیں۔ اس صورت حال میں ہم نے ایک عجیب فیصلہ کرلیا کہ جس پارٹی میں بڑا عہدہ ملے اس میں شمولیت اختیار کی جائے ۔ پر افسوس ہمیں چھوٹے موٹے عہدوں سے ٹالنے کی کوشش کی گئی ، کیونکہ وہاں امیدواروں کی ایک طویل قطار پہلے سے انتظارمیں کھڑی تھی ۔
قصہ مختصر ہم نے صلاح مشورے کے بعد اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک نئی پارٹی بنا ڈالی اور یوں خود ہی بانی اور خود ہی اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
آج کل آپ بھی چہار جانب بلاگنگ کا شور سن رہے ہوں گے ۔ لوگ اپنی گفتگووں میں بے حد شد و مد کے ساتھ مختلف بلاگز اور بلاگرز کا حوالہ دینے لگے ہیں ۔ اپنے بلاگر دوستوں کا ذکربھی بڑے زور و شور سے کرتے ہیں ۔ الغرض ہم نے جب یہ سب دیکھا تو پہلے کوشش کی کہ کسی بلاگ کو فالو کیا جائے پھر سوچا کسی بلاگر سے دوستی کی جائے ۔ کافی غورو حوض کے بعد یہاں بھی ہم نے ایک اچھوتا فیصلہ کیا ، یعنی اس سمندر میں کودنے کا فیصلہ ۔ جب یہاں آ کر ادھر ادھر دیکھا تو ہمیں درج بالا یہ شعر یاد آگیا جس سے ہم نے آج اپنی بات شروع کی تھی ۔ مجھے امید ہے آپ اس شعر کے بر محل یاد آنے کی داد ضرور دیں گے ۔۔ اگر مجھے نہیں تو کم از کم شاعر کو ہی دیجیے جس نے یہ خوبصورت شعر کہا۔۔


