اگر بات میرے اپنے تک محدود ہوتی تو شاید میں اپنی مساعی میں کامیاب ہو بھی جاتا مگر افسوس کہ مجھے بار بار منہ کی کھانا پڑی ۔ ہوتا یوں ہے کہ جب بھی بلتستان سے کوئی فون آتا ہے تو سلام و دعا کے بعد پہلی بات موسم کے حوالے سے ہوتی ہے ۔ مثلاً اسلام آباد کا موسم کیسا ہے ؟ یہاں تو دھوپ نکلی ہوئی ہے ۔ اور پھر اگلی بات جو کہ درحقیقت اس سارے فساد کی جڑ ہے یعنی فلائٹ کے بارے میں پوچھنا یا بتانا ۔۔ قصہ مختصر یہ کہ روزانہ کی اس اکلوتی پرواز کے معاملے میں بلتستانی اس قدر حساس ہیں کہ چاہے کسی نے سفر کرنا ہے چاہے نہیں، لیکن آج کی اور آنے والے کل کی فلائٹ کے بارے میں آپ پیش گوئی کرنے کے لازما قابل ہوں۔
Wednesday, August 14, 2019
بلتستانی ماہرین موسمیات
اگر بات میرے اپنے تک محدود ہوتی تو شاید میں اپنی مساعی میں کامیاب ہو بھی جاتا مگر افسوس کہ مجھے بار بار منہ کی کھانا پڑی ۔ ہوتا یوں ہے کہ جب بھی بلتستان سے کوئی فون آتا ہے تو سلام و دعا کے بعد پہلی بات موسم کے حوالے سے ہوتی ہے ۔ مثلاً اسلام آباد کا موسم کیسا ہے ؟ یہاں تو دھوپ نکلی ہوئی ہے ۔ اور پھر اگلی بات جو کہ درحقیقت اس سارے فساد کی جڑ ہے یعنی فلائٹ کے بارے میں پوچھنا یا بتانا ۔۔ قصہ مختصر یہ کہ روزانہ کی اس اکلوتی پرواز کے معاملے میں بلتستانی اس قدر حساس ہیں کہ چاہے کسی نے سفر کرنا ہے چاہے نہیں، لیکن آج کی اور آنے والے کل کی فلائٹ کے بارے میں آپ پیش گوئی کرنے کے لازما قابل ہوں۔
Sunday, February 7, 2016
ماہی خوری
یقینا سب کا جواب ہاں میں ہوگا ...
اب اس سوال کا جواب دیں
کبھی آپ نے زندہ مچھلی کھائی ہے ؟
کیا ؟ زندہ مچھلی ؟
اچھا چلیں مچھلی کا زندہ بچہ ؟
نہیں نہیں ....
مجھے پتہ تھا حیرت اور کراہت سے یہی کہیں گے ..
چلتے چلتے اب ذرا زندہ مچھلی کے فوائد سن لیں . پھر ہوسکتا ہے کہ آپ اس جانب کچھ توجہ فرمائیں.
فائدہ نمبر 1. یہ آپ کا قیمتی وقت بچاتی ہے . جھٹ سے پکڑیں پٹ سے کھائیں . صاف کرنے اور پکانے کی جھنجھٹ سے نجات
نمبر 2. مچھلی پیٹ کے کیڑوں کو کھاتی ہے. اگر پیٹ میں بھی زندہ رہے تو ..
نمبر 3. زندہ مچھلی کھانے سے دولت مل سکتی ہے.. وہ کیسے ؟ یہ راز کھانے کے بعد فاش ہوگا
نمبر 4. مچھلی کا زندہ بچہ نگلنے سے تیراکی آجاتی ہے. احتیاطا یہ دیکھ لیں کہ بچہ شارک کا نہ ہو.
فائدہ نمبر 5. زندہ مچھلی کھانے کے بعد آپ کوئی غلطی نہیں کریں گے. کم از کم ایسی غلطی دوبارہ نہیں کریں گے..
یہ چیدہ چیدہ فائدے ہیں جنہیں گنوا کر بچپن میں ہمارے دوست ہمیں زندہ مچھلی کھانے پر مائل کرتے تھے . چند پرکشش فائدے ان کے علاوہ بھی ہیں جنہیں بعض وجوہ کے پیش نظر نہیں لکھ رہے . غالب امکان یہی ہے کہ ایسے دوست آج کل بھی بکثرت پائے جاتے ہیں .
آپ کے ذہن میں یقینا ابھی تک یہ سوال کلبلا رہا ہے کہ ہم نے کھائی یا نہیں .. یے نا ؟
تو اس کا جواب تھوڑا پیچیدہ ہے . بس اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہم نے بہت جلد تیراکی سیکھ لی تھی . لیکن اس شتابی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان دنوں ہمارا بیشتر وقت ہرگسا نالے* میں پانی سے کھیلتے گزرتا تھا.
ویسے ہمارے دوست کچھ اتنے غلط بھی نہیں تھے. بہت بعد میں ہم پر یہ حقیقت کھلی کہ مشرق بعید والے زندہ مچھلی بڑی رغبت سے کھاتے ہیں. وہاں اچھے باورچی کی پہچان یہ ہے کہ کھانا آپ کے سامنے ایسے پروئے کہ مچھلی نہ صرف زندہ ہو بلکہ باقاعدہ تڑپ رہی ہو.
Friday, June 19, 2015
پہلی بارش
پرائمری سکول کی عمارت چار کمروں پر مشتمل تھی . ایک ہیڈماسٹر صاحب کا دفتر تھا اور دوسرا اساتذہ کی بیٹھک . باقی کے دو کمروں میں بڑوں کی کلاسیں ہوتی تھیں. ویسے تو یہ بڑے چوتھی اور پانچویں جماعت کے لڑکے تھے پر جب دیکھو اساتذہ اور والدین سے زیادہ ہمارے خیرخواہ بنے پھرتے تھے. حیرت انگیز طور پر یہ صاحبان کمرے جیسی نعمت پاکر کچھ زیادہ خوش نہ تھے . اس ناشکری کا راز ہم پر اس دن کھلا جب سکول میں داخل ہونے کے بعد پہلی بار بارش ہوئی . اس روز اسمبلی کے بعد ہم اپنی کلاس یعنی سفید بے دانہ شہتوت کے نیچے پہنچ کر گیلی مٹی کے اوپر خشک ریت ڈال رہے تھے تاکہ نمی کے مضر اثرات سے خود کو محفوظ رکھ سکیں. تختہ سیاہ اور استاد کی کرسی لانے کی ذمہ داری اس دن جن لڑکوں کی تھی ، وہ ابھی راستے میں ہی تھے . یکایک آسمان پر کالی گھٹائیں چھا گئیں اور چشم زدن میں پانی چھم چھم برسنے لگا . استاد کی غیر موجودگی اور دستور مکتب سے ناواقفیت آڑے آئی اور بھیگنے لگے . ایسے میں بڑی فکر یہ لاحق ہوئی کہ جس تختی پر چکنی مٹی کی روشنائی سے گھر کا سارا کام لکھا ہے اسے مٹنے سے کیسے بچائیں . اتنے میں ہم نے دیکھا کہ دوسری کلاس جو ذرا دور خوبانی کے درخت کے نیچے ہورہی تھی ، کے لڑکوں نے زور سے چھٹی کا نعرہ مارا اور تتر بتر ہوگئے . ہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں کرپائے تھے کہ اسی کلاس کے استاد کی نظر بیٹھک کی طرف دوڑتے ہوئے ہم پر پڑی . وہ رک گئے اور چلا کر بولے 'تمہیں بارش میں بھیگنے کا کوئی خاص شوق ہے . بھاگو ' یہ سننے کی دیر تھی کہ ہم نے اس تختی کو جس کی اب تک جی جان سے حفاظت کررہے تھے ، سر پر تان لیا اور بستہ اٹھا کر دوڑ پڑے. جب ہم سکول کی عمارت کے پاس سے گزرے تب بڑوں کے کمروں پر نظر پڑی. وہاں بدستور پڑھائی جاری تھی اور سب کن اکھیوں سے گھر جانے والے خوش نصیبوں کو حسرت سے تک رہے تھے .