Pages

Showing posts with label Skardu. Show all posts
Showing posts with label Skardu. Show all posts

Sunday, February 7, 2016

سکول + بارش = چھٹی

وطن عزیز میں جاری شدید گرم اور خشک موسم کے سبب ہم وطنوں کی اچھی خاصی تعداد کافی فکرمند اور باران رحمت کے لیے حتی المقدور مصروف عمل ہے. مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ضمن میں اپنی تحقیقات بھی اہل دانش (ادھر ادھر کیا دیکھتے ہیں ، آپ سے مخاطب ہوں) کے سامنے رکھا جائے. تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے.
درحقیقت اس اہم مسئلے کی جانب بچپن میں ہی ہماری توجہ مبذول ہوگئی تھی. وہ ایسے کہ ایک دن پرائمری سکول میں بارش اور چھٹی کا اٹوٹ تعلق ظاہر ہوا . (تفصیل کے لیے ہمارا مضمون 'پہلی بارش' دیکھیے) ہماری زندگی پر اس حیرت انگیز دریافت کے اثرات ویسے ہی مرتب ہوئے جس طرح سیب گرنے والے حادثے کے نیوٹن کی زندگی پر ہوئے تھے. دیکھ لیں عالی دماغوں کے شب وروز میں کس قدر مشابہت پائی جاتی یے. نیوٹن کی طرح ہم بھی اس دن سے دیوانہ وار بارش برسانے کے طریقے کھوجنے میں جت گئے . خیر یہ تو وقت نے ثابت کر دیا کہ نیوٹن کا مسئلہ ہمارے درپیش مسئلے کے سامنے ہیچ تھا. آآں ہاں.. آپ متفق نہیں ہیں . کوئی بات نہیں لیکن دیکھیے نا نیوٹن تو جب چاہے درخت پر چڑھ کر یا نیچے سے ہی ہاتھ بڑھا کر یا پتھر مار کر سیب توڑ سکتا تھا. اور لازما اس نے ایسا کیا اور خوب سیب کھائے.  اب بادل اور ہوائیں تو ہماری پہنچ سے باہر کی چیزیں تھیں. بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ قریب قریب یہ مسئلہ تو مابعد الطبیعات کا تھا.  یہاں مغرب کے ازلی تعصب کا ذکر کرنا بھی لازم ہے جو سائینس کے شعبے میں ہماری مساعی کو کسی قطار میں شمار نہیں کرتا.
افسوس کہ چوتھی جماعت میں آکر اپنی کوششیں ترک کرنا پڑیں . اور اس کی وجہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ چوتھی جماعت میں پہنچنے کا مطلب سکول کے دو عدد کمروں میں سے ایک کا حقدار ہونا تھا. لہذا مزید اس کار بیکار میں سر کھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا.
اس زمانے میں موسم کے بارے میں جاننے کے دو ہی طریقے تھے . ریڈیو کی مقامی خبریں یا ہوا گھر (محکمہ موسمیات) کے چھوڑے ہوئے رنگین غبارے . ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا کہ مذکورہ ادارے ہماری خواہش کا پاس رکھتے ہوئے بارش کی پیشگوئی کرے . آپ کہ سکتے ہیں کہ ہماری تحقیق کو مہمیز کرنے میں ان دو اداروں کی نالائقی نے بھی برابر حصہ ڈالا .
چونکہ یہ مسئلہ قدیم سے انسانوں خصوصا طلبہ کو درپیش تھا لہذا چند بقراطیوں نے فوری بارش برسانے کے چند نسخے پہلے سے ہی گڑ رکھےتھے. ان میں سے چند تو قبول عام کے درجے پر بھی فائز تھے. ہم نے بھی ایک ایک کرکے چند نسخے آزمالیے. ایک کے مطابق کچھ لایعنی جملے چالیس صفحات پر لکھ کر آب رواں میں بہادینا تھا. ظاہر ہے یہ ساری ریاضت پڑھنے لکھنے سے جان چھڑانے کے لیے ہورہی تھی. یوں یہ نسخہ کچھ دل کو نہ بھایا.   ایک نسخہء کیمیا جو کہ شاید ہماری طبیعت کے بھی موافق تھا اور جسے  اکثر کارگر بھی پایا ، مینڈک مارنا تھا. یہاں اکثر سے مراد پورے سکولی دور میں ایک آدھ بار ہی ہے . بے شمار معصوم ڈڈوں کے قتل کا گناہ بر گردن او ہے جس نے یہ نسخہ ہمیں سجھایا تھا.  یہاں علم حیاتیات کے طلبہ لازما ہمارے احسان مند ہیں اور اس کی وجہ وہ اہم دریافت ہے جو ہم نے چلتے چلتے کی تھی کہ کیوں ایک مینڈکی بے شمار انڈے دینے کے باوجود اکثر  بے اولاد مرتی ہے ؟ . وغیرہ وغیرہ
بادلوں کے اس سیر حاصل مطالعے کے دوران آخری قابل ذکر تجربہ جس پر ہم کام کررہے تھے ، یہ تھا کہ کسی طرح ایک مصنوعی بادل بنایا جائے جو ہماری ہدایات پر عمل کرتے ہوئے قدرتی بادلوں کو گھیر گھار کر گمراہ کرے اور پھر سب ہمارے اشاروں پر ناچیں. یہ مفروضہ یقینا کسی فلم سے آیا تھا.
اسی قبیل کے سائنسی تجربات میں تین ساڑھے تین سال کا عرصہ جیسے پلک جھپکتے گزر گیا. اگر کچھ عرصہ مزید اسی کشمکش میں گزارتے تو لازما آج حضرت انسان بادلوں کو بھی اپنا مطیع و تابع فرمان بناچکا ہوتا. صد شکر کہ ایسا نہیں ہوا ..

قصہ سکول جانے کا

سکول نامی جگہ سے ہماری پرانی شناسائی تھی. وہ ایسے کہ موصوف ہمارے گاوں میں نہیں بلکہ اس میں ہمارا گاوں واقع تھا. چونکہ حیرت انگیز طور پر پاکستان میں دنیا کی بڑی اور انوکھی چیزیں بکثرت پائی جاتی ہیں تو یہاں یہ دعوی کر نے میں تامل کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا سکول تھا. اس کے علاوہ بھی چند خصوصیات ہیں (ذکر آگے آئے گا) جن کی بنا پر اس سکول کا مقام منفرد و ممتاز تھا.
گھر میں ایک عرصے سے سکول میں ہمارے داخلے کاچرچا تھا اور تیاریاں زورشور سے جاری تھیں پر اچھا زمانہ تھا سونے سے پہلے ساری فکریں بھلا دیتے تھے اور ہر صبح ایک نئی صبح ہوتی تھی. لیکن ایک دن آنکھ کھلی تو دیکھا کہ والدہ سرھانے بیٹھیں کچھ پڑھ کر ہم پر پھونک رہی ہیں. ذہن میں پہلا خیال یہی آیا تھا کہ ہم پھر سے بیمار ہوگئے ہیں. والدہ ہمیں پریشان دیکھ کر فورا معاملے کی تہ تک پہنچ گئیں اور مسکراتے ہوئے بڑے پیار سے یہ مژدہ سنایا کہ آج سکول جانا ہے جلدی اٹھ کر منہ ہاتھ دھولو. انہیں سرھانے پاکر ڈر کے مارے جس تیزی سے نیند غائب ہوئی تھی ، یہ سنتے ہی اس سے دس گنا تیزی سے دوبارہ غالب آگئی. چاروناچار اٹھنا پڑا.  ناشتے کے بعد والد صاحب کی ہم رکابی میں ایک بھاری بھر کم بستہ کندھے پر لٹکائے ، ایک ہاتھ میں تختی اور دوسرے میں تھرماس پکڑے سکول کے لیے روانہ ہوئے. اس طرح ہم باقاعدہ سکول میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ کم و بیش دس سال چلا.
ہمارا گھر گاوں کے تقریبا سرے پر تھا اور سکول کی مرکزی عمارت گھر سے قدرے دور گاوں کے درمیان میں واقع تھی. البتہ چند آوارہ مزاج کلاسیں، خانہ بدوشوں کی مانند گھنے سائے،  پھل دار درخت یا کسی اور فائدے کے حصول کے لیے اکثر و بیشتر پورے گاوں بلکہ مضافات تک میں بھٹکتی رہتیں . سکول کے اس طور پھیلنے اور سکڑنے کے پس پردہ کچھ اور عوامل بھی کارفرما تھے. مثلا سکولی دور کے دوسرے سال ہمارے ایک نوجوان اور کنوارے استاد کے عشق نے ہمیں چند مہینے ایک قبرستان میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور کیا. اس قصے کی تفصیل کسی اور مناسب وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں . یہاں سکول کی کثیرالجہتی کا اندازہ بھی آپ کو بخوبی ہورہا ہوگا. ابتدائی جماعت ہی سے اس نوع کی تربیت کے ذریعے طلبہ کو عملی زندگی کے لیے تیار کیا جاتا تھا. بعض اوقات استاد محترم نے گھر کے اہم امور بھی نمٹانے ہوتے تھے ، انہیں ہر ممکن سہولت بہم پہنچانے کے لیے کلاس ان کے گھر کے نواحات میں چلی جاتی تھی. سکول سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک دل فریب نخلستان واقع تھا. میٹھے پانی کا ایک عدد چشمہ اور اس سے متصل ایک بڑا تالاب اس سبزہ زار کی خوب صورتی کو چار چاند لگاتے تھے. گرمیوں میں یہاں بیٹھ کر پڑھنا اور پڑھانا ہر طالب و استاد کی دلی تمنا ہوتی تھی. افسوس نخلستان کے مالک کو اس خواہش سے کچھ سروکار نہ تھا.  اس لیے وہ اکثر اس میں پانی چھوڑ دیتا تھا تاکہ اس کے جانور سہولت سےچر سکیں.
سکول کی وردی سستے کھدر نما ملیشیا رنگ کے کپڑے کی قمیض شلوار پر مبنی تھی. والدہ کو قلق تھا کہ گھر میں سلائی مشین کی عدم موجودگی خواہ مخواہ فضول خرچی کا سبب بن رہی ہے. حالانکہ جس خیاط سے والد صاحب کپڑے سلواتے تھے ، پورے شہر میں ان سے کم سلائی لینے والا کوئی دوسرا نہ تھا . نیز جب انہیں خبر ہوئی کہ راقم سکول میں داخل ہونے جا رہا ہے تو جذبہ خیر سگالی کے تحت سلائی میں مزید کمی کردی تھی. موصوف انسان تو بےشک اچھے تھے لیکن ان کے سلے ہوئے کپڑے اس لیے برے تھے کہ ان کے جوڑ بغیر کسی تخصیص کے کبھی بھی کھل جاتے تھے. دراصل حضرت کو اپنی کاریگری اور تجربے پر اس قدر اعتماد تھا کہ ناپ لینے کی زحمت نہیں کرتے تھے. بس نظر بھر کر دیکھ لیا اور پھر حافظے کے بل بوتے پر سوٹ تیار. قمیض کی حد تک تو یہ کجی قابل برداشت تھی پر شلوار کا معاملہ چونکہ بڑا نازک ہوتا ہے لہذا کئی بار سخت خفت اٹھانا پڑی. والد صاحب پھر بھی تبدیلئ خیاط پر راضی نہ تھے . الٹا قصوروار ہمیں ہی ٹھہراتے تھے کہ سکول میں داخل ہونے کے باوجود اٹھنے بیٹھنے کی تمیز نہیں آئی. آخرکار دوسرے سال جب آخری حربہ آزماتے ہوئے سکول جانے سے صاف انکار کردیا تب اس مشکل سے جان چھوٹی.
وردی تو والدہ نہ سی پائیں پر میرا بستہ انہوں نے بڑی محنت اور محبت سے سیا. ان کی نفاست بستے کے ڈیزائن اور پائیداری سے برابر جھلکتی تھی. پہلے میری بھی شدید خواہش تھی کہ بازار سے ایک نیا اور رنگین بستہ لیا جائے لیکن انہوں نے انتہائی خوب صورتی سے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی. نتیجتا طویل مذاکرات کے بعد  میں اس شرط پر راضی ہوا کہ بستہ تیار ہونے کے بعد اگر پسند نہ کروں تو بازار سے ہی خریدا جائے گا. اس کے بعد انہوں نے کام شروع کردیا اور اپنے ہاتھوں سے ایسی سیدھی، صاف ستھری اور خوبصورت دوہری سلائی کی کہ مشین کیا کرتی. حتی کہ کئی لوگوں کو یہ ماننے میں تامل تھا کہ یہ ہاتھ کا سلا ہوا ہے. پہلے میرا پورا ارادہ یہی تھا کہ مکمل ہونے پر ناپسند کرتے ہوئے رد کردوں گا پر ان کی محبت ، محنت اور بستے کی خوب صورتی دیکھی تو قبول کر لیا. یہ بستہ مڈل سکول تک یعنی چھے سال چلا. اس کے بعد بھی اسے کچھ نہیں ہوا تھا لیکن اب کتابیں زیادہ ہوگئی تھیں. ایک عرصے تک وہ بستہ کچن میں مختلف چیزیں رکھنے کے کام آتا رہا.
اس زمانے کا رواج تھا کہ سکول میں داخلے کے وقت طالب علم کی طرف سے تمام اساتذہ کو پارٹی دی جاتی تھی. اب آج کا زمانہ تو ہے نہیں کہ بیکری سے تیار چیزیں خریدلیں لہذا والدہ نے سارے لوازمات خود تیار کیے. ایک چائے کا تھرماس اور تھیلا والد نے پکڑا، اور ایک تھرماس میں نے. چند چیزیں میرے بستے میں سمائیں. یہ مال و اسباب اٹھا کر سکول کے لیے روانہ ہوئے. والدہ دروازے تک چھوڑنے آئیں. راستے میں جو بھی ملا اس نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات ظاہر کیں. سکول پہنچا تو اسمبلی جاری تھی. لڑکے با آواز بلند لب پہ آتی پڑھ رہے تھے. ایک مدت بعد اس دعا کا مطلب واضح ہوا اور اس کے بھی کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ یہ علامہ اقبال کی نظم ہے. ہیڈماسٹر ، مشہور استاد، ماہر تعلیم محمد علی صاحب تھے. جو طلبہ میں اپنی ایک عرفیت سے جانے جاتے تھے.  انتہائی علم دوست اور اصولوں کے پابند تھے.  یقینا میرے جیسے  چند کام چوروں نے انہیں یہ عرفیت دی تھی . والد کی وجہ سے انہوں نے ہمارا استقبال بڑے تپاک سے کیا. رجسٹر میں نام کے اندراج کے بعد والد نے باقاعدہ مجھے ان کے حوالے کردیا، جس طرح تھانے والے عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کو جیلر کے حوالے کرتے ہیں. سکول کے اساتذہ کو خبر ہوچکی تھی کہ چائے پانی کا بندوبست ہے لہذا سب حاضر تھے. ہمیں ایک استاد نے کلاس کی راہ یوں دکھائی. وہ سامنے جو سفید شہتوت کا درخت دکھ رہا ہے، اس کے نیچے تمہاری کلاس ہے. ہم نے بطرف شہتوت چلنا شروع کیا . راستے میں جتنی کلاسیں ملیں، ہر ایک میں سے ایک آدھ قرابت دار یا دوست برآمد ہوا اور بغل گیر ہوکر خوشی کا اظہار کیا . اپنی کلاس میں پہنچے تو یہ دیکھ کر ازحد خوشی ہوئی کہ کئی لنگوٹیے وہاں پہلے سے موجود تھے. پارٹی کے بعد والد صاحب،  استاد کے ہمراہ کلاس میں آئے . مجھے خوش دیکھ کر مطمئن ہوگئے اور یہ کہ کر کہ اب چھٹی سے پہلے گھر مت جانا، چلے گئے.

Sunday, May 20, 2012

راجا حسین خان مقپون


 صحافی ، سماجی کارکن، سیاست دان راجا حسین خان مقپون پچھلے دنوں ایک حادثے میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے ۔ان کی ناگہانی موت سے بلاشبہ گلگت بلتستان کی صحافت اور سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جو کہ اب شاید ہی پر ہو۔
کچھ دنوں سے یہ سوچ مجھے بار بار ستارہی ہے کہ ایک ہی سکول ، کالج میں پڑھنے اور ایک ہی چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھنے کے باوجود میری ان سے فقط ایک ہی ملاقات کیوں ہوئی ۔  بے شک گزشتہ کچھ سالوں سے ہم اسلام آباد جیسے نسبتاً بڑے شہر میں رہ رہے تھے لیکن یہاں بھی کسی تقریب ، محفل میں یا سر راہ ہم کبھی نہیں ملے۔  حالانکہ دوست احباب اور جان پہچان والوں  کے علاوہ بعض ایسے لوگوں سے بھی آمنا سامنا رہتا ہے جو نہ رہے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس بلاگ میں راجا مرحوم سے ہونے والی اس اکلوتی ملاقات کا احوال اور چند تاثرات قلمبند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کے درجات  بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے ۔ آمین

 ڈگری کالج ، سکردو شہر کا اہم اور قدیم علمی ادارہ ہے ۔ میں اسے اپنی خوش قسمتی تصور کرتا ہوں کہ میں نے بھی عرصہ دو سال یہاں تحصیل علم میں گزارے۔  اس ادارے کے ساتھ  یادوں کی ایک کہکشاں آباد ہے۔  دراصل باقاعدہ طالبعلم بننے سے قبل بھی ڈگری کالج سےایک تعلق قائم تھا ۔ وہ کچھ ایسے کہ گرمیوں میں جب شہر کے سارے کھیت کاشت کاری کی وجہ سے کھیلنے کے لیے دستیاب نہیں رہتے تھے تب میدانوں کی قلت پیدا ہوجاتی تھی ۔ شہر میں کھیل کے باقاعدہ میدان کم تھے اور جو تھے وہ سکولز اور کالجز میں تھے ۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ سکول یا کالج پڑھائی کے لیے تو سب کا ہوتا ہے پر شام کے وقت کھیلنے کے لیے صرف اسی محلے کے لڑکوں کا ہوتا ہے کہ جس میں وہ واقع ہو۔ اب یہ ہماری خوش بختی سمجھ لیجیے کہ ڈگری کالج ہمارے محلے میں واقع ہے یوں ڈگری کالج سے ہماری شناسائی بہت پرانی تھی۔ 
ایک دن ایک دوست کے ساتھ اس کے کسی کام سے ڈگری کالج جانا ہوا ۔ دلچسپ  بات یہ ہے کہ یہ بھی کالج میں داخل ہونے سے پہلے کا قصہ ہے ۔ میرے دوست کو کالج ہوسٹل میں مقیم کسی طالب علم سے ملنا تھا۔  اس روز پہلی بار پتہ چلا کہ ہوسٹل بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ورنہ ابھی تک صرف ہوٹل سے ہی واقف تھا ، خوشگوار حیرت یہ جان کر ہوئی تھی کہ جس کالج میں بچپن سے آنا جانا ہے وہاں ہوسٹل جیسی اہم ترین شے بھی موجود ہے اور اس موجودگی سے ہم یکسر بےخبر رہے۔ ہاسٹل دیکھ کر یہ خوشی یا حیرت شاید اس لیے ہوئی تھی کہ ہماری آنے والی زندگی میں اس نے اہم کردار ادا کرنا تھا۔
جب ہم اپنے میزبان کے کمرے میں پہنچے تب وہاں چار لڑکے سر جوَڑے لوڈو کھیل رہے تھے۔ ہمارے پہنچنے پر ہمارا میزبان اس مقابلے سے دستبردار ہوا اور ہم سے گپ شپ شروع کردی۔  گفتگو ابھی شروع ہوِئی تھی کہ ایک دبلا پتلا ، پھرتیلا  لڑکا گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔  پتہ  یہ چلا کہ یہ سب میرے دوست کے کلاس فیلوز ہیں۔ جو لڑکا گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تھا اس کے بابت معلوم ہوا کہ کسی طلبہ تنظیم  کا بھی سرگرم کارکن ہے اور طلبہ کے مسائل و مشکلات سے لے کر علاقائی و ملکی معاملات کا گہرا ادراک رکھتا ہے ۔ مزے کی بات یہ کہ دوران ملاقات اس لڑکے کا پورا نام نہیں جان سکا کیونکہ سب اسے راجا کہ کر بلاتے رہے۔  خیر یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی ، بلتستان میں بھی خطاب ، لقب و دیگر ناموں سے اگلے کو مخاطب کرنے کی روایت موجود ہے۔  بعد میں معلوم ہوا کہ یہ راجا حسین خان مقپون تھے اور یہ میری ان سے پہلی اور آخری ملا قات تھی۔ تقریباً تین سال بعد جب میں باقاعدہ کالج کا طالبعلم بنا تب وہ کالج سے فارغ ہو کر جاچکے تھے ۔ اس ضمن میں میری معلومات ناقص ہیں کہ انہوں نے کالج میں یا کالج کے بعد تعلیمی سفر کی کتنی منزلیں طے کیں البتہ یہ سب جانتے ہیں کہ عملی زندگی میں انہوں نے اعلی مدارج سر کیے۔ 
 راجا حسین خان مقپون کو شاید اپنی کوتاہ عمری کی خبر تھی اسی لیے وہ اس مختصر زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر مسلسل محو عمل رہے۔ جب انہوں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو صحافت کو بطور پیشہ اپنایا اور نام کمایا لیکن ان کی ساکھ اس سے قبل زمانہ طالبعلمی میں ہی ایک نوجوان سیاسی کارکن کی حیثیت سے قائم ہو چکی تھی ۔ اردو صحافت خاص کر گلگت بلتستان کی اردو صحافت کے لیے ان کی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے ۔ مختصراً اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ راجا حسین خان مقپون کی ذات اب ایک ادارے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ 
جیسے کہ میں پہلے ہی عرض کر چکا کہ میری ان سے صرف ایک بار بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی۔ البتہ ان کے اخبارات اور مشترکہ دوستوں کی باتوں میں ان کی موجودگی نے ہمارے درمیان ایک تعلق ہمیشہ قائم رکھا ۔ حیرت انگیز طور پر آج تک کسی دوست سے ان کے بارے میں کوئی منفی جملہ سننے کو نہیں ملا ۔ سب نے ان کی عاجزی ، منکسر المزاجی ، دریادلی ، بزلہ سنجی اور دوست نواز طبیعت کا ہی ذکر کیا۔  اس زمانے میں جب ہر شخص منہ پر ہی تعریف کرنے اور سننے کا عادی ہوگیا ہے ، کسی کے پیٹھ پیچھے ایسی آرا سننا ایک معجزے سے کم نہیں لگتا۔
ان کی شخصیت کا دوسرا رخ ان کے صحافتی کیریئر پر نظر ڈالنے سے سامنے آتا ہے۔ اخبارات کی خبریں ، پیشکش، معیاراوردیگر چیزیں ہمیں پس پردہ موجود افراد کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہیں۔ بطور صحافی راجا حسین خان حق و صداقت کے علم بردار رہے ۔ ہمیشہ امن و آشتی کا پرچارکرتے رہے ۔ بیباکی ، ملک و ملت کےساتھ پیوستگی اوروفاداری جیسی خوبیاں بھی انکے قلم کے ذریعے نمایاں ہوتی رہیں ۔ یہ ایسی خوبیاں ہیں کہ جو ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہیں اور راجا حسین خان مقپون نے ان کی پاسداری کے لیے اپنے اخبارات کی بندش ، کردار کشی ، مالی مشکلات یہاں تک کہ قید و بند جیسی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ مگر ان کے پایہ استقلال میں لغزش نظر نہیں آئی۔

نوٹ ؛ راجا حسین خان مقپون کی تصویر ان کے بھائی راجا شاہ سلطان مقپون کے فیس بک البم سے لی گئ ہے۔