Pages

Sunday, February 7, 2016

قصہ سکول جانے کا

سکول نامی جگہ سے ہماری پرانی شناسائی تھی. وہ ایسے کہ موصوف ہمارے گاوں میں نہیں بلکہ اس میں ہمارا گاوں واقع تھا. چونکہ حیرت انگیز طور پر پاکستان میں دنیا کی بڑی اور انوکھی چیزیں بکثرت پائی جاتی ہیں تو یہاں یہ دعوی کر نے میں تامل کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا سکول تھا. اس کے علاوہ بھی چند خصوصیات ہیں (ذکر آگے آئے گا) جن کی بنا پر اس سکول کا مقام منفرد و ممتاز تھا.
گھر میں ایک عرصے سے سکول میں ہمارے داخلے کاچرچا تھا اور تیاریاں زورشور سے جاری تھیں پر اچھا زمانہ تھا سونے سے پہلے ساری فکریں بھلا دیتے تھے اور ہر صبح ایک نئی صبح ہوتی تھی. لیکن ایک دن آنکھ کھلی تو دیکھا کہ والدہ سرھانے پر بیٹھیں کچھ پڑھ کر ہم پر پھونک رہی ہیں. ذہن میں پہلا خیال یہی آیا تھا کہ ہم پھر سے بیمار ہوگئے ہیں. والدہ ہمیں پریشان دیکھ کر فورا معاملے کی تہ تک پہنچ گئیں اور مسکراتے ہوئے بڑے پیار سے یہ مژدہ سنایا کہ آج سکول جانا ہے جلدی اٹھ کر منہ ہاتھ دھولو. انہیں سرھانے پاکر ڈر کے مارے جس تیزی سے نیند غائب ہوئی تھی ، یہ سنتے ہی اس سے دس گنا تیزی سے دوبارہ غالب آگئی. چاروناچار اٹھنا پڑا.  ناشتے کے بعد والد صاحب کی ہم رکابی میں ایک بھاری بھر کم بستہ کندھے پر لٹکائے ، ایک ہاتھ میں تختی اور دوسرے میں تھرماس پکڑے سکول کے لیے روانہ ہوئے. اس طرح ہم باقاعدہ سکول میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ کم و بیش دس سال چلا.
ہمارا گھر گاوں کے تقریبا سرے پر تھا اور سکول کی مرکزی عمارت گھر سے قدرے دور گاوں کے درمیان میں واقع تھی. البتہ چند آوارہ مزاج کلاسیں، خانہ بدوشوں کی مانند گھنے سائے،  پھل دار درخت یا کسی اور فائدے کے حصول کے لیے اکثر و بیشتر پورے گاوں بلکہ مضافات تک میں بھٹکتی رہتیں . سکول کے اس طور پھیلنے اور سکڑنے کے پس پردہ کچھ اور عوامل بھی کارفرما تھے. مثلا سکولی دور کے دوسرے سال ہمارے ایک نوجوان اور کنوارے استاد کے عشق نے ہمیں چند مہینے ایک قبرستان میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور کیا. اس قصے کی تفصیل کسی اور مناسب وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں . یہاں سکول کی کثیرالجہتی کا اندازہ بھی آپ کو بخوبی ہورہا ہوگا. ابتدائی جماعت ہی سے اس نوع کی تربیت کے ذریعے طلبہ کو عملی زندگی کے لیے تیار کیا جاتا تھا. بعض اوقات استاد محترم نے گھر کے اہم امور بھی نمٹانے ہوتے تھے ، انہیں ہر ممکن سہولت بہم پہنچانے کے لیے کلاس ان کے گھر کے نواحات میں چلی جاتی تھی. سکول سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک دل فریب نخلستان واقع تھا. میٹھے پانی کا ایک عدد چشمہ اور اس سے متصل ایک بڑا تالاب اس سبزہ زار کی خوب صورتی کو چار چاند لگاتے تھے. گرمیوں میں یہاں بیٹھ کر پڑھنا اور پڑھانا ہر طالب و استاد کی دلی تمنا ہوتی تھی. افسوس نخلستان کے مالک کو اس خواہش سے کچھ سروکار نہ تھا.  اس لیے وہ اکثر اس میں پانی چھوڑ دیتا تھا تاکہ اس کے جانور سہولت سےچر سکیں.
سکول کی وردی سستے کھدر نما ملیشیا رنگ کے کپڑے کی قمیض شلوار پر مبنی تھی. والدہ کو قلق تھا کہ گھر میں سلائی مشین کی عدم موجودگی خواہ مخواہ فضول خرچی کا سبب بن رہی ہے. حالانکہ جس خیاط سے والد صاحب کپڑے سلواتے تھے ، پورے شہر میں ان سے کم سلائی لینے والا کوئی دوسرا نہ تھا . نیز جب انہیں خبر ہوئی کہ راقم سکول میں داخل ہونے جا رہا ہے تو جذبہ خیر سگالی کے تحت سلائی میں مزید کمی کردی تھی. موصوف انسان تو بےشک اچھے تھے لیکن ان کے سلے ہوئے کپڑے اس لیے برے تھے کہ ان کے جوڑ بغیر کسی تخصیص کے کبھی بھی کھل جاتے تھے. دراصل حضرت کو اپنی کاریگری اور تجربے پر اس قدر اعتماد تھا کہ ناپ لینے کی زحمت نہیں کرتے تھے. بس نظر بھر کر دیکھ لیا اور پھر حافظے کے بل بوتے پر سوٹ تیار. قمیض کی حد تک تو یہ کجی قابل برداشت تھی پر شلوار کا معاملہ چونکہ بڑا نازک ہوتا ہے لہذا کئی بار سخت خفت اٹھانا پڑی. والد صاحب پھر بھی تبدیلئ خیاط پر راضی نہ تھے . الٹا قصوروار ہمیں ہی ٹھہراتے تھے کہ سکول میں داخل ہونے کے باوجود اٹھنے بیٹھنے کی تمیز نہیں آئی. آخرکار دوسرے سال جب آخری حربہ آزماتے ہوئے سکول جانے سے صاف انکار کردیا تب اس مشکل سے جان چھوٹی.
وردی تو والدہ نہ سی پائیں پر میرا بستہ انہوں نے بڑی محنت اور محبت سے سیا. ان کی نفاست بستے کے ڈیزائن اور پائیداری سے برابر جھلکتی تھی. پہلے میری بھی شدید خواہش تھی کہ بازار سے ایک نیا اور رنگین بستہ لیا جائے لیکن انہوں نے انتہائی خوب صورتی سے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی. نتیجتا طویل مذاکرات کے بعد  میں اس شرط پر راضی ہوا کہ بستہ تیار ہونے کے بعد اگر پسند نہ کروں تو بازار سے ہی خریدا جائے گا. اس کے بعد انہوں نے کام شروع کردیا اور اپنے ہاتھوں سے ایسی سیدھی، صاف ستھری اور خوبصورت دوہری سلائی کی کہ مشین کیا کرتی. حتی کہ کئی لوگوں کو یہ ماننے میں تامل تھا کہ یہ ہاتھ کا سلا ہوا ہے. پہلے میرا پورا ارادہ یہی تھا کہ مکمل ہونے پر ناپسند کرتے ہوئے رد کردوں گا پر ان کی محبت ، محنت اور بستے کی خوب صورتی دیکھی تو قبول کر لیا. یہ بستہ مڈل سکول تک یعنی چھے سال چلا. اس کے بعد بھی اسے کچھ نہیں ہوا تھا لیکن اب کتابیں زیادہ ہوگئی تھیں. ایک عرصے تک وہ بستہ کچن میں مختلف چیزیں رکھنے کے کام آتا رہا.
اس زمانے کا رواج تھا کہ سکول میں داخلے کے وقت طالب علم کی طرف سے تمام اساتذہ کو پارٹی دی جاتی تھی. اب آج کا زمانہ تو ہے نہیں کہ بیکری سے تیار چیزیں خریدلیں لہذا والدہ نے سارے لوازمات خود تیار کیے. ایک چائے کا تھرماس اور تھیلا والد نے پکڑا، اور ایک تھرماس میں نے. چند چیزیں میرے بستے میں سمائیں. یہ مال و اسباب اٹھا کر سکول کے لیے روانہ ہوئے. والدہ دروازے تک چھوڑنے آئیں. راستے میں جو بھی ملا اس نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات ظاہر کیں. سکول پہنچا تو اسمبلی جاری تھی. لڑکے با آواز بلند لب پہ آتی پڑھ رہے تھے. ایک مدت بعد اس دعا کا مطلب واضح ہوا اور اس کے بھی کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ یہ علامہ اقبال کی نظم ہے. ہیڈماسٹر ، مشہور استاد، ماہر تعلیم محمد علی صاحب مرحوم تھے. جو طلبہ میں اپنی ایک عرفیت سے جانے جاتے تھے.  انتہائی علم دوست اور اصولوں کے پابند تھے.  یقینا چند کام چور طلبہ نے انہیں یہ عرفیت دی تھی . والد کی وجہ سے انہوں نے ہمارا استقبال بڑے تپاک سے کیا. رجسٹر میں نام کے اندراج کے بعد والد نے باقاعدہ مجھے ان کے حوالے کردیا، جس طرح تھانے والے عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کو جیلر کے حوالے کرتے ہیں. سکول کے اساتذہ کو خبر ہوچکی تھی کہ چائے پانی کا بندوبست ہے لہذا سب حاضر تھے. ہمیں ایک استاد نے کلاس کی راہ یوں دکھائی. وہ سامنے جو سفید شہتوت کا درخت دکھ رہا ہے، اس کے نیچے تمہاری کلاس ہے. ہم نے بطرف شہتوت چلنا شروع کیا . راستے میں جتنی کلاسیں ملیں، ہر ایک میں سے ایک آدھ قرابت دار یا دوست برآمد ہوا اور بغل گیر ہوکر خوشی کا اظہار کیا . اپنی کلاس میں پہنچے تو یہ دیکھ کر ازحد خوشی ہوئی کہ کئی لنگوٹیے وہاں پہلے سے موجود تھے. پارٹی کے بعد والد صاحب،  استاد کے ہمراہ کلاس میں آئے . مجھے خوش دیکھ کر مطمئن ہوگئے اور یہ کہ کر کہ اب چھٹی سے پہلے گھر مت جانا، چلے گئے.

Friday, June 19, 2015

پہلی بارش

پرائمری سکول کی عمارت چار کمروں پر مشتمل تھی . ایک ہیڈماسٹر صاحب کا دفتر تھا اور دوسرا اساتذہ کی بیٹھک . باقی کے دو کمروں میں بڑوں کی کلاسیں ہوتی تھیں. ویسے تو یہ بڑے چوتھی اور پانچویں جماعت کے لڑکے تھے پر جب دیکھو اساتذہ اور والدین سے زیادہ ہمارے خیرخواہ بنے پھرتے تھے. حیرت انگیز طور پر یہ صاحبان کمرے جیسی نعمت پاکر کچھ زیادہ خوش نہ تھے . اس ناشکری کا راز ہم پر اس دن کھلا جب سکول میں داخل ہونے کے بعد پہلی بار بارش ہوئی . اس روز اسمبلی کے بعد ہم  اپنی کلاس یعنی سفید بے دانہ شہتوت کے نیچے پہنچ کر گیلی مٹی کے اوپر خشک ریت ڈال رہے تھے تاکہ نمی کے مضر اثرات سے خود کو بچا سکیں. تختہ سیاہ اور استاد کی کرسی لانے کی ذمہ داری اس دن جن لڑکوں کی تھی ، وہ ابھی راستے میں ہی تھے . یکایک آسمان پر کالی گھٹائیں چھا گئیں اور چشم زدن میں پانی چھم چھم برسنے لگا . استاد کی غیر موجودگی اور دستور مکتب سے ناواقفیت آڑے آئی اور بھیگنے لگے . ایسے میں بڑی فکر یہ لاحق ہوئی کہ جس تختی پر چکنی مٹی کی روشنائی سے گھر کا سارا کام لکھا ہے  اسے مٹنے سے کیسے بچائیں . اتنے میں ہم نے دیکھا کہ دوسری کلاس جو ذرا دور خوبانی کے نیچے ہورہی تھی ، کے لڑکوں نے زور سے چھٹی کا نعرہ مارا اور تتر بتر ہوگئے . ہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں کرپائے تھے کہ اسی کلاس کے استاد کی نظر بیٹھک کی طرف دوڑتے ہوئے ہم پر پڑی . وہ رک گئے اور چلا کر بولے 'تمہیں بارش میں بھیگنے کا کوئی خاص شوق ہے . بھاگو ' یہ سننے کی دیر تھی کہ ہم نے اس تختی کو جس کی اب تک جی جان سے حفاظت کررہے تھے ، سر پر تان لیا اور بستہ اٹھا کر دوڑ پڑے. جب ہم سکول کی عمارت کے پاس سے گزرے تب بڑوں کے کمروں پر نظر پڑی. وہاں بدستور پڑھائی جاری تھی اور سب کن اکھیوں سے گھر جانے والے خوش نصیبوں کو حسرت سے تک رہے تھے .

Wednesday, June 27, 2012

الفاظ و معنی ۔۔۔۔۔۔

دنیا کی ہر بڑی زبان کی طرح اردو میں بھی دیگر زبانوں کے الفاظ ، اصطلاحات وغیرہ مستعمل ہیں ۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ الفاظ اپنے معنی کے ساتھ دوسری زبان میں داخل ہوتے ہیں لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب کبھی کسی لفظ کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی زبان میں تو اس کا مطلب کچھ اور ہے جبکہ  نئی زبان میں اسے نئی شناخت ملی ہوئی ہے۔
یہاں ایک واقعہ یاد آرہا ہے ۔ ہوا یہ کہ ہمارے ایک عزیز کی شادی کسی دور کے گاوں میں ہوئی۔ جب دلہن سسرال پہنچی تو اس کی خوبصورتی سےجہاں ایک طرف بہت سارے  متاثر ہوئے ، وہاں بعض حاسدین نے کیڑے نکالنے کا کام بھی شروع کردیا ۔ ایسی ہی ایک حاسد عورت نے دلہن کے نام کے حوالے سے یہ انکشاف کیا کہ اس کا اصلی نام چونکہ  بہت عجیب سا ہے اس لیے سسرالیوں نے اسے یہ نیا نام خود سے دیا ہے ، کیونکہ انہیں بھی وہ دقیانوسی نام قبول نہیں ۔ مجھے حیرت ہوئی کہ کیسے ایک شخص کے بیک وقت دو مختلف نام ہوسکتے ہِیں۔
لیکن یہ واقعی میں ہوا تھا ، اب اس خاتون کے دو نام ہیں۔ ایک سے وہ نئے گھر، گاوں میں پہچانی جاتی ہیں جبکہ دوسرے سے پرانے میں۔  اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ انہیں کون سا نام زیادہ پسند ہے۔  میرا اپنا خیال ہے کہ پرانا پسند ہوگا ، یا نیا بھی ہو سکتا ہے۔
 لفظوں کی اس دو رنگی کا ذکر انگریزی صفت 'سمارٹ' سے شروع کرتے ہیں۔ اردو میں بھی یہ صفت ہی ہے لیکن اس کا مطلب خوب رو مرد، صحت مند مرد جبکہ انگریزی میں سمارٹ شاطر، چالاک وغیرہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اسی طرح انگریزی فعل 'رش'  اردو میں اسم میں تبدیل ہو کر ہجوم ، بھیڑ خاص کرسڑک پر گاڑیوں کے ہجوم وغیرہ کے معنی دے رہا ہے جبکہ انگریزی میں تیز ، جلدی بھاگنا وغیرہ کے لیے مستعمل ہے۔
اب ذیل کی فہرست پر نطر ڈالیں اور دیکھیں کہ عربی کلمات کا اردو میں کیا حشر ہوا ہے ۔
لفظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عربی معنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو معنی
احتجاج                            دلیل پیش کرنا                    اعتراض، انکار
احتیاط                             گھیرنا، احاطہ کرنا              ہوشیاری، بچاو
ادارہ                               گھمانا                               دفتر، محکمہ
ادنی                               انتہائی قریب                      گھٹیا، کم تر
استعفاء                     معافی طلب کرنا                 نوکری چھوڑنے کی درخواست
استعمار                          آباد کرنا                            غاصبانہ تسلط
اقبال                               آگے بڑھنا                         خوش قسمتی، عروج
اوقات                            وقت کی جمع                      حیثیت، حالت
بندر                              بندرگاہ                             ایک جانور
بنیان                            عمارت                             ایک لباس
جذبہ                            مسافت                              جوش ، ولولہ
جراب                         میان                                 موزا
جناب                          گوشہ ، کنارہ                     حضرت، قبلہ
حرام                         حرمت والی چیز، جگہ          ناجائز، حلال کی ضد
 حریف                      ہم پیشہ                                دشمن، رقیب، مقابل
حوصلہ                      پرندے کا پوٹا                      جرات، ہمت، ظرف
خصم                        دشمن                                  دشمن، شوہر
رقبہ                         گردن                                   احاطہ زمین
رقیب                        محافظ                                 دشمن، مقابل
طفیل                        طفل                                     ذریعہ، واسطہ
طویلہ                       لمبی عورت یا چیز                  اصطبل
عرصہ                     صحن                                    وقت، زمانہ
غریب                     پردیسی، مسافر                        مفلس
غصہ                      غم، پھندا                                 ناراضی، برہمی
غلیظ                       گاڑھا                                     ناپاک، گندا
قاصد                       ارادہ کرنے والا                       نامہ بر، ڈاکیا
قبض                       دامن سمیٹنا                            ایک بیماری
قرینہ                      بیوی، ساتھی                           طرز، انداز، سجاوٹ
مدہوش                   حیران                                    بے خود، بے ہوش
مدیر                      گھمانے والا                            ایڈیٹر
مزاج                     آمیزش                                   طبیعت، عادت
موسم                   لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ         وقت، رت
وجہ                   چہرہ، سامنے کا حصہ               سبب، کارن
وردی                 گلابی ، سرخ                             مخصوص لباس

ان کے علاوہ بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ یہاں صرف معروف اور ایسے الفاظ جن کے معانی نسبتاً زیادہ بدلے ہیں ، کو شامل کیا گیا ہے ۔
الفاظ کا یہ سفر جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ اس عمل کو کوئی روک  نہیں سکتا لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس منتقلی کے دوران الفاظ کے معنی کیوں اور کیسے بدل جاتے ہیں؟ آیا یہ کام کسی کے کہنے سے ہوتا ہے یا کسی کی فرمائش پر یا خودبخود انجام پاتا ہے؟   میرا خیال ہے ان سوالات کا تسلی بخش جواب شاید ہی کوئی دے سکے گا۔


Friday, May 25, 2012

بچگانہ حرکتیں ۔۔۔۔۔

  میں نے ایک دن یونہی اپنے چار سالہ بھانجھے سے پوچھ لیا کہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ تو اس کا فوری جواب آیا۔  "پبلک سکول کی بس کا ڈرائیور"۔۔۔  اس معصوم کا یہ بے ساختہ جواب سن کر ایک قہقہہ بلند ہوا ۔ اس کی ماں نے البتہ غصے سے اس کو گھورا ، کیونکہ ہفتہ پہلے ہی وہ بڑے فخر سے بتا رہی تھیں کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا ۔ اور جب میں نے تصدیق کے لیے بھانجھے سے پوچھا کہ ڈاکٹر بن کر تو کیا کرے گا تو اس نے جواب دیا تھا ۔"سب کو ٹیکہ لگاوں گا"۔ کچھ ڈاکٹروں کو ٹیکہ لگاتے ہوئے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ وہ بھی اسی نیک کام کو انجام دینے کے لیے ہی ڈاکٹر بنے ہیں ۔  گمان ہوتا ہے کہ اس کام میں مزہ بہت ہے یا اس کے ذریعے وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ، مہذب الفاظ میں کیتھارسس کرتے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے بھانجھے میاں کو بھی یہی شغل پسند آیا تھا ۔۔  ہمارے ہاں آجکل ٹیکہ لگانے کو دھوکا دینے، نقصان پہنچانے کے مفہوم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ احتیاطاً بتا ہی دوں کہ میں نے  ان معنوں میں استعمال نہیں کیا ہے اور بھانجھا تو خیر ابھی بچہ ہے ۔ 
بھانجھے کے اس نئے فیصلے کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ایک دن قبل وہ اپنے والد کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کو لینے پبلک سکول گیا تھا۔ وہاں اس نے دیوہیکل بس دیکھی اور اس کے سحر میں مبتلا ہوگیا ۔۔ شاید اس نے سوچا ہوگا کہ دنیا کا سب سے ضروری ، احسن اور دل چسپ کام بس چلانا ہے ۔ 
اسی طرح ایک عزیز کے چھے سالہ بیٹے نے ایک دن اچانک یہ مطالبہ کر کے سب کو حیران ، پریشان کردیا تھا کہ "میں نے شادی کرنی ہے"۔ اس بچگانہ بلکہ احمقانہ مطالبے کی وجہ توآپ بغیر بتائے سمجھ گئے ہوں گے ۔ یہی کہ ماضی قریب میں وہ کسی شادی میں شریک ہوا تھا ، اور وہاں دولہے میاں کی شان و شوکت دیکھ کر بے حد  مرعوب ہوا۔ 
پس ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کی ناپائیدار، فوری اور معصومانہ باتیں ، حرکتیں صرف بچوں کو ہی زیب دیتی ہیں ۔۔ افسوس کہ کچھ بچے ، بالغ اور سمجھ دار ہو کر بھی نہیں ہوتے اور بچگانہ حرکتیں بدستور جاری رکھتے  ہیں۔ نتیجتاً پھر خمیازہ بھی بھگتے ہیں ۔۔
۔۔۔ بیچارے ۔۔۔

Sunday, May 20, 2012

راجا حسین خان مقپون


 صحافی ، سماجی کارکن، سیاست دان راجا حسین خان مقپون پچھلے دنوں ایک حادثے میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے ۔ان کی ناگہانی موت سے بلاشبہ گلگت بلتستان کی صحافت اور سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جو کہ اب شاید ہی پر ہو۔
کچھ دنوں سے یہ سوچ مجھے بار بار ستارہی ہے کہ ایک ہی سکول ، کالج میں پڑھنے اور ایک ہی چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھنے کے باوجود میری ان سے فقط ایک ہی ملاقات کیوں ہوئی ۔  بے شک گزشتہ کچھ سالوں سے ہم اسلام آباد جیسے نسبتاً بڑے شہر میں رہ رہے تھے لیکن یہاں بھی کسی تقریب ، محفل میں یا سر راہ ہم کبھی نہیں ملے۔  حالانکہ دوست احباب اور جان پہچان والوں  کے علاوہ بعض ایسے لوگوں سے بھی آمنا سامنا رہتا ہے جو نہ رہے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس بلاگ میں راجا مرحوم سے ہونے والی اس اکلوتی ملاقات کا احوال اور چند تاثرات قلمبند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کے درجات  بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے ۔ آمین

 ڈگری کالج ، سکردو شہر کا اہم اور قدیم علمی ادارہ ہے ۔ میں اسے اپنی خوش قسمتی تصور کرتا ہوں کہ میں نے بھی عرصہ دو سال یہاں تحصیل علم میں گزارے۔  اس ادارے کے ساتھ  یادوں کی ایک کہکشاں آباد ہے۔  دراصل باقاعدہ طالبعلم بننے سے قبل بھی ڈگری کالج سےایک تعلق قائم تھا ۔ وہ کچھ ایسے کہ گرمیوں میں جب شہر کے سارے کھیت کاشت کاری کی وجہ سے کھیلنے کے لیے دستیاب نہیں رہتے تھے تب میدانوں کی قلت پیدا ہوجاتی تھی ۔ شہر میں کھیل کے باقاعدہ میدان کم تھے اور جو تھے وہ سکولز اور کالجز میں تھے ۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ سکول یا کالج پڑھائی کے لیے تو سب کا ہوتا ہے پر شام کے وقت کھیلنے کے لیے صرف اسی محلے کے لڑکوں کا ہوتا ہے کہ جس میں وہ واقع ہو۔ اب یہ ہماری خوش بختی سمجھ لیجیے کہ ڈگری کالج ہمارے محلے میں واقع ہے یوں ڈگری کالج سے ہماری شناسائی بہت پرانی تھی۔ 
ایک دن ایک دوست کے ساتھ اس کے کسی کام سے ڈگری کالج جانا ہوا ۔ دلچسپ  بات یہ ہے کہ یہ بھی کالج میں داخل ہونے سے پہلے کا قصہ ہے ۔ میرے دوست کو کالج ہوسٹل میں مقیم کسی طالب علم سے ملنا تھا۔  اس روز پہلی بار پتہ چلا کہ ہوسٹل بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ورنہ ابھی تک صرف ہوٹل سے ہی واقف تھا ، خوشگوار حیرت یہ جان کر ہوئی تھی کہ جس کالج میں بچپن سے آنا جانا ہے وہاں ہوسٹل جیسی اہم ترین شے بھی موجود ہے اور اس موجودگی سے ہم یکسر بےخبر رہے۔ ہاسٹل دیکھ کر یہ خوشی یا حیرت شاید اس لیے ہوئی تھی کہ ہماری آنے والی زندگی میں اس نے اہم کردار ادا کرنا تھا۔
جب ہم اپنے میزبان کے کمرے میں پہنچے تب وہاں چار لڑکے سر جوَڑے لوڈو کھیل رہے تھے۔ ہمارے پہنچنے پر ہمارا میزبان اس مقابلے سے دستبردار ہوا اور ہم سے گپ شپ شروع کردی۔  گفتگو ابھی شروع ہوِئی تھی کہ ایک دبلا پتلا ، پھرتیلا  لڑکا گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔  پتہ  یہ چلا کہ یہ سب میرے دوست کے کلاس فیلوز ہیں۔ جو لڑکا گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تھا اس کے بابت معلوم ہوا کہ کسی طلبہ تنظیم  کا بھی سرگرم کارکن ہے اور طلبہ کے مسائل و مشکلات سے لے کر علاقائی و ملکی معاملات کا گہرا ادراک رکھتا ہے ۔ مزے کی بات یہ کہ دوران ملاقات اس لڑکے کا پورا نام نہیں جان سکا کیونکہ سب اسے راجا کہ کر بلاتے رہے۔  خیر یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی ، بلتستان میں بھی خطاب ، لقب و دیگر ناموں سے اگلے کو مخاطب کرنے کی روایت موجود ہے۔  بعد میں معلوم ہوا کہ یہ راجا حسین خان مقپون تھے اور یہ میری ان سے پہلی اور آخری ملا قات تھی۔ تقریباً تین سال بعد جب میں باقاعدہ کالج کا طالبعلم بنا تب وہ کالج سے فارغ ہو کر جاچکے تھے ۔ اس ضمن میں میری معلومات ناقص ہیں کہ انہوں نے کالج میں یا کالج کے بعد تعلیمی سفر کی کتنی منزلیں طے کیں البتہ یہ سب جانتے ہیں کہ عملی زندگی میں انہوں نے اعلی مدارج سر کیے۔ 
 راجا حسین خان مقپون کو شاید اپنی کوتاہ عمری کی خبر تھی اسی لیے وہ اس مختصر زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر مسلسل محو عمل رہے۔ جب انہوں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو صحافت کو بطور پیشہ اپنایا اور نام کمایا لیکن ان کی ساکھ اس سے قبل زمانہ طالبعلمی میں ہی ایک نوجوان سیاسی کارکن کی حیثیت سے قائم ہو چکی تھی ۔ اردو صحافت خاص کر گلگت بلتستان کی اردو صحافت کے لیے ان کی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے ۔ مختصراً اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ راجا حسین خان مقپون کی ذات اب ایک ادارے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ 
جیسے کہ میں پہلے ہی عرض کر چکا کہ میری ان سے صرف ایک بار بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی۔ البتہ ان کے اخبارات اور مشترکہ دوستوں کی باتوں میں ان کی موجودگی نے ہمارے درمیان ایک تعلق ہمیشہ قائم رکھا ۔ حیرت انگیز طور پر آج تک کسی دوست سے ان کے بارے میں کوئی منفی جملہ سننے کو نہیں ملا ۔ سب نے ان کی عاجزی ، منکسر المزاجی ، دریادلی ، بزلہ سنجی اور دوست نواز طبیعت کا ہی ذکر کیا۔  اس زمانے میں جب ہر شخص منہ پر ہی تعریف کرنے اور سننے کا عادی ہوگیا ہے ، کسی کے پیٹھ پیچھے ایسی آرا سننا ایک معجزے سے کم نہیں لگتا۔
ان کی شخصیت کا دوسرا رخ ان کے صحافتی کیریئر پر نظر ڈالنے سے سامنے آتا ہے۔ اخبارات کی خبریں ، پیشکش، معیاراوردیگر چیزیں ہمیں پس پردہ موجود افراد کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہیں۔ بطور صحافی راجا حسین خان حق و صداقت کے علم بردار رہے ۔ ہمیشہ امن و آشتی کا پرچارکرتے رہے ۔ بیباکی ، ملک و ملت کےساتھ پیوستگی اوروفاداری جیسی خوبیاں بھی انکے قلم کے ذریعے نمایاں ہوتی رہیں ۔ یہ ایسی خوبیاں ہیں کہ جو ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہیں اور راجا حسین خان مقپون نے ان کی پاسداری کے لیے اپنے اخبارات کی بندش ، کردار کشی ، مالی مشکلات یہاں تک کہ قید و بند جیسی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ مگر ان کے پایہ استقلال میں لغزش نظر نہیں آئی۔

نوٹ ؛ راجا حسین خان مقپون کی تصویر ان کے بھائی راجا شاہ سلطان مقپون کے فیس بک البم سے لی گئ ہے۔  

Friday, May 11, 2012

منٹو کے پرستار




آج سے ٹھیک سو سال پہلے مئی ۱۱ انیس سو بارہ کو سعادت حسن پیدا ہوا۔ پتہ نہیں کیوں مگر اس نام کے ساتھ جب تک منٹو نہ لکھیں تب تک سعادت حسن مکمل نہیں ہوتا، ایک بے نام سی تشنگی رہ جاتی ہے۔ جیسے سر کے بغیر ایک خوبصورت جسم تراشا گیا ہو۔ حتی کہ شیکسپیر کے گلاب والے مشہور زمانہ قول کی بھی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔  لیکن منٹو کا اضافہ کرتے ہی تصویر جیسے تمام تر جزئیات کے ساتھ مکمل ہوجاتی ہے ۔ مجسمے کو جیسے سر مل جاتا ہے ۔ لہذا ابتدائی جملہ ترمیم کے بعد دوبارہ لکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ 
آج سے ٹھیک سو سال پہلے مئی ۱۱ انیس سو بارہ کو سعادت حسن منٹو پیدا ہوا۔  اب بالکل ٹھیک شخص پیدا ہوا ہے ۔ مطلب افسانہ نگار منٹو ہی پیدا ہوا ہے۔ منٹو نے ایک جگہ لکھا ہے "سعادت حسن مرجائے گا مگر منٹو زندہ رہے گا" پرپتہ یہ چلتا ہے کہ منٹو کے بغیر سعادت حسن پیدا بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔ 

منٹوغالب کی طرح لگی لپٹی رکھے بغیر کھری بات کرنے کا عادی تھا۔ انسان کو اچھائیوں اور برائیوں سمیت دیکھتا تھا اور افسوس غالب کے برعکس دکھاتا بھی تھا۔ اب اول الذکر عادت کی موجودگی تو خیر تھی پر موخرالذکر کی وجہ سے منٹو دوستوں میں بھی کانٹے کی طرح کھٹکنے لگا تھا۔ خود کو آئینے سے تشبیہ دیتا تھا کہ چہرہ جیسا ہوگا اس میں ویسا ہی دکھے گا۔ آنجہانیوں سے تو چلیں کوئی بھی بدتمیزی کرلیتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جواب یا صفائی دینے کے لیے واپس نہیں آئے گے۔ پر زندوں سے یہ دل لگی آبیل مجھے مار کہنے والی بات ہے ۔اگر آج منٹو زندہ ہوتا تو فحاشی و عریانی کے علاوہ یقیناً ہتک عزت کے بھی  بے شمار مقدے بھگت رہا ہوتا۔ 
 مزے کی بات یہ ہے کہ آج کل ہر طرف منٹو کے پرستاروں کی بہتات نظر آتی ہے ۔ ادیب ، اردو افسانے کاعام قاری ، صحافی ، سیاست دان ، سماجی کارکن اور خصوصیت کے ساتھ  نقاد بھی منٹو کی اس حرکت کو خوبی بنا کر پیش کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ جہاں موقع ملے منٹو کی حمایت میں خوب بڑھ چڑھ کر گفتگو فرمانے لگتے ہیں ۔ اس کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں ۔
۔۱۔  وہ دیکھ رہے ہیں کہ منٹو کا سورج چڑھ رہا ہے تو اس کی پوجا بھی ضروری خیال کرتے ہیں ۔
۔۲۔ انہیں یہ بات معلوم ہے اورمکمل اطمینان بھی حاصل ہے کہ اب  منٹو میانی صاحب سے اٹھ کران کے بخیے ادھیڑنے نہیں آسکتا۔
  ورنہ آج وہ نازک مزاج پرستار جو خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور اپنی تعریف نہ کرنے والوں اور اپنی ہاں میں ہاں نہ ملانے والوں سے بات کرنا تو درکنار ان کا وجود بھی اپنے قرب و جوار میں برداشت نہیں کرتے ، منٹو کی اس خوفناک خوبی کی کیسے تعریف کرسکتے ۔۔

Sunday, May 6, 2012

تم پوچھتے ہو

مولانا رومی کی ایک نظم کا آزاد ترجمہ


تم پوچھتے ہو ۔ تم کون ہو
اس ناتواں وجود کے ساتھ
کیسے محبت  کر سکتے  ہو
 
مجھے کیا معلوم
میں کون ہوں
یا میں کہاں ہوں
 کیسے ہو سکتا ہےایک چھوٹی سی لہر
سمندر میں خود کو تلاش کرے

تم پوچھتے ہو
 تم اس  پاک روشنی  کے
 آس پاس
کیا ڈھونڈ رہے ہو
کہ جس کا تم بھی کبھی حصہ تھے

تم پوچھتے ہو
تم کیوں اس قفس کے قیدی بنے
کہ جس کا نام جسم ہے
پر اب بھی یہ دعوی کہ تم
ایک  آزاد پنچھی ہو

میں یہ کیسے جانوں
کیسے میں نے اپنا رستہ کھودیا
لیکن میں یقین سے کہتا ہوں
کہ محبت کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے پہلے
میں بالکل سیدھی راہ پر تھا

ترجمہ کرنا مجھے پسند ہے ۔ بڑا پر لطف کام لگتا  ہے ۔ پر بعض اوقات بڑی دقت بھی پیش آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک پیشہ ور مترجم نہیں بنا ۔ اس کام کے لیے جتنی مستقل مزاجی درکار ہے ، مجھ میں شاید اتنی نہیں ۔۔ البتہ آج بیٹھے بیٹھے ایک غلطی سرزرد ہو ہی گئی ۔  اول تو شاعری سمجھنا  مشکل پھر فارسی  اور اس پر مولانا رومی کی شاعری ۔ رہی سہی کسر اس ترجمے نے پوری کردی ہے ۔ اب آپ بھی اس غلطی کی سزا بھگتیں ۔۔۔